تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 202

سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام مَسِيحُ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي مُدَّةٍ هِيَ كَمِثْلِ هذا مطابق حضرت عیسیٰ پر ختم ہو گئیں پس ضروری تھا کہ اس امنہ الْقَدْرِ۔وَقَدْ أَشَارَ إِلَيْهِ الْقُرْآنُ في قَوْلِهِ کا مسیحای قدر عرصہ میں ( رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ انْتُمْ أَذِلَّةٌ۔وَإِنَّ بعد ظاہر ہو اور اس کی طرف قرآن مجید نے آیت کریمہ : و الْقُرْآنَ ذُو الْوُجُوهِ كَمَا لا يخفى عَلَى لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ انْتُمْ أَذِلَّةٌ میں اشارہ کیا اور جیسا الْعُلَمَاءِ الْأَجِلَّةِ۔فَالْمَعْنَى الثَّانِي لِهَذِهِ کہ جلیل القدر عالموں پر مخفی نہیں قرآن کریم ذوالوجوہ ہے سو الْآيَةِ فِي هَذَا الْمَقَامِ اَنَّ اللهَ يَنْصُرُ اس جگہ اس آیت کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان الْمُؤْمِنِينَ يَظُهُورِ الْمَسِيحَ إِلى مِنِينَ صدیوں کے اختتام پر جن کی گفتی بدر کامل کے دنوں کے مشابہ تُشَابِهُ عِدَّتُهَا أَيَّامَ الْبَدْرِ التَّاقِ ہے مسیح موعود کے ظہور سے مومنوں کی مدد فرمائے گا درانحالیکہ وَالْمُؤْمِنُوْنَ أَذِلَّةٌ فِي تِلْكَ الْأَيَّامِ فَانظُرُ مؤمن اس زمانہ میں حقیر ہوں گے پس اس آیت کو دیکھو کہ کس إِلى هَذِهِ الْآيَةِ كَيْفَ تُشير إلى ضُعْفِ طرح ترقی کے بعد اسلام کے ضعیف ہو جانے کی طرف اشارہ الْإِسْلَامِ ثُمَّ تُشير إلی گونِ خِلالِهِ کرتی ہے پھر یہی آیت خدائے علیم وخبیر کی طرف سے مقرر بَدْرًا في أَجْلٍ مُّسَمًّى من الله العلام کردہ مدت میں ہلال اسلام کے بدر بن جانے کی طرف اشارہ كَمَا هُوَ مَنْهُومٌ مِنْ لَفْظ الْبَدْرِ۔کرتی ہے جیسا کہ آیت میں لفظ بدر سے سمجھا جاتا ہے۔(اعجاز المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۸۸،۱۸۷) (ترجمه از مرتب) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت موسیٰ سے ہے تو اس مماثلت کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اس صدی کا مجد ومسیح ہو کیونکہ (صحیح) چودھویں صدی پر موسیٰ کے بعد آیا تھا اور آج کل چودھویں صدی ہے چودہ کے عدد کو بڑی مناسبت ہے۔چودھویں صدی کا چاند کامل ہوتا ہے اسی کی طرف اللہ نے : و لقد نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ انْتُمْ اَذِلَّةٌ میں اشارہ کیا ہے یعنی ایک بدر تو وہ تھا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اپنے مخالفوں پر فتح پائی۔اس وقت بھی آپ کی جماعت قلیل تھی اور ایک بدر یہ ہے۔بدر میں چودھویں صدی کی طرف اشارہ ہے اس وقت بھی اسلام کی حالت آذلّہ کی ہورہی ہے سو ان سارے وعدوں کے موافق اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے۔الحکم جلد نمبر ۲ مورخہ ۱۷/جنوری ۱۹۰۳ءصفحہ ۳) دیکھو کہ صحابہ کو بدر میں نصرت دی گی اور فرمایا گیا کہ یہ نصرت ایسے وقت میں دی گی جبکہ تم تھوڑے تھے اس بدر میں کفر کا خاتمہ ہو گیا، بدر پر ایسے عظیم الشان نشان کے اظہار میں آئندہ کی بھی ایک خبر رکھی گئی