تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 201
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران بِالْاِسْتِقْبَالِ مِنَ الزَّمَانِ عِنْدَ ذِلَّةٍ تُصِيبُ دوسرا بدر آئندہ زمانہ سے۔اس وقت جبکہ مسلمانوں کو الْمُسْلِمِينَ كَمَا تَرَوْنَ في هَذَا الْأَوَانِ، وَكَانَ ذلت پہنچے جیسا کہ اس زمانہ میں دیکھتے ہو اور اسلام الإسْلامُ بَدَأَ كَالْهِلَالٍ وَكَانَ قُيْدَ أَنه بلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخر سَيَكُونُ بَدْرًا فِي آخِرِ الزَّمَانِ وَالْمَالِ بِإِذْنِ زمانہ میں بدر ہو جائے خدا تعالیٰ کے حکم سے پس خدا الله ذى الْجَلالِ، فَاقْتَضَتْ حِكْمَةُ الله أَن تعالی کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی يَكُونَ الْإِسْلَامُ بَدْرًا فِي مِائَةٍ تُشَابِهُ الْبَدْر شکل اختیار کرے جو شمار کے رو سے بدر کی طرح مشابہ عِدَّةً فَإِلَيْهِ أَشَارَ فِي قَوْلِهِ لَقَد نَصَرَكُمُ اللهُ ہو پس انہی معنوں کی طرف اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے بِبَدْرٍ ، فَفَكَّرْ فِكْرَةً كَامِلَةً وَلَا تَكُنْ مِن اس قول میں کہ لَقَد نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ۔پس اس امر الْغَافِلِينَ۔وَإِنَّ لَفَظَ لَقَدْ نَصَرَكُمْ قَدْ أَتَى هُنا میں باریک نظر سے غور کر اور غافلوں سے نہ ہو اور بے عَلَى وَجْهِ أَخَرَ أَغْنِي بِمَعْنَى يَنْصُرُكُمْ كَمَا لا شك لَقَد نَصَرَكُمُ الله کا لفظ یہاں دوسری وجہ کے رو يخفى عَلَى الْعَارِفِينَ۔فَحَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّ الله - يَنْصُرُكُمْ کے معنوں میں آیا ہے جیسا کہ كَانَ قَد قَدَّدَ لِلإِسْلَامِ الْعِزَّتَيْنِ بَعْدَ عارفوں پر ظاہر ہے۔الغرض خدا تعالیٰ نے اسلام کے اللَّتَيْنِ عَلى رَغْمِ الْيَهُودِ الَّذِينَ كَانَ قَدَّدَ لیے دو ذلت کے بعد دوعز تیں رکھی تھیں۔یہود کے لَهُمُ الذِلّتَيْنِ بَعْدَ الْعِزَّتَيْنِ نَكَالًا مِّنْ عِنْدِهِ برخلاف کہ ان کے لیے سزا کے طور پر دوعزتوں کے كَمَا تَقْرَءُ وُنَ فِي سُوْرَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ قِصَّةً بعد دو ذلتیں مقرر کی تھیں جیسا کہ بنی اسرائیل کی سورۃ الْفَاسِقِينَ مِنْهُمْ وَالظَّالِمِينَ میں ان فاسقوں اور ظالموں کا قصہ پڑھتے ہو۔(خطبه الهامیه روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۷) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) فَإِنَّ مُوسَى وَ مُحَمَّدًا عَلَيْهِمَا صَلَوَاتُ حضرت موسیٰ (علیہ السلام ) اور حضرت محمد صلی اللہ الرَّحْمنِ مُتَمائِلَانِ بنضِ الْفُرْقَانِ وَإِنّ عليه و سلم ہر دو پر خدائے رحمان کا درود اور سلام ہو۔قرآنی سِلْسِلَةَ هَذِهِ الْخِلَافَةِ تُشَابِه سِلْسِلَةَ تِلْكَ نَصَّ کے رو سے ایک دوسرے کے مثیل ہیں اور اس الْخِلَافَةِ كَمَا هِيَ مَذْكُورَةٌ فِي الْقُرْآنِ وَفِيْهَا خلافت کا سلسلہ اس سلسلہ خلافت سے مشابہت رکھتا لَا يَخْتَلِفُ اثْنَانِ وَقَدِ اخْتَتَمَتُ مِنَاتُ ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اس سلسلہ کا ذکر موجود ہے سِلْسِلَةِ خُلَفَاءِ مُوْسٰی عَلى عِیسَی كَمِثْلِ عِدَّةِ اور اس بارہ میں کوئی دو آدمی مختلف نہیں اور خلفاء موسیٰ أَيَّامِ الْبَدْرِ۔فَكَانَ مِنَ الْوَاجِبِ أَنْ يَظْهَرَ کے سلسلہ کی صدیاں چودہویں کے چاند کی گنتی کے