تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 198

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۸ سورة ال عمران ہمارے ہاتھ میں ہے اور اسی کو تم ہاتھ سے دیتے ہو۔(احکم جلد 9 نمبر ۳۹ مورخه ۱۰رنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت اکثر یہود اور نصاریٰ فاسق تھے جیسا کہ قرآن شریف صاف گواہی دیتا ہے کہ : وَ اكْثَرُهُمْ فَسِقُونَ ( التوبة : (۸) پس جبکہ اکثر لوگ ان میں فاسق تھے جنہوں نے عملی طور پر تو حید کے آداب اور اعمال صالحہ کو چھوڑ دیا تھا اس لئے خدا کے رحم نے ان کی اصلاح کیلئے اپنی سنت قدیمہ کے موافق یہی تقاضا کیا کہ ان کی طرف رسول بھیجے۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۶۶) ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ اَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَارُرُ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِأَيْتِ اللهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٌّ ، ذلِكَ بِمَا عَصَواو كَانُوا يَعْتَدُونَ ان پر وقت کی مارڈالی گئی ہے۔یعنی جہاں رہیں گے ذلیل اور محکوم بن کر رہیں گے اور ان کیلئے یہ مقرر کیا گیا ہے کہ بحجر بکسی قوم کے ماتحت رہنے کے کسی ملک میں خود بخود دعزت کے ساتھ نہیں رہیں گے ہمیشہ کمزوری اور ناتوانی اور بد بختی ان کے شامل رہے گی وجہ یہ کہ وہ خدا کے نشانوں سے انکار کرتے رہے ہیں اور خدا کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں یہ اس لئے کہ وہ معصیت اور نافرمانی میں حد سے زیادہ بڑھے ( براہین احمدیہ چہار صص روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۹ حاشیہ نمبر ۱۱) گئے۔يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَن الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَ أُولَبِكَ مِنَ الصَّلِحِينَ۔110 زبان کو جیسے خدا تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف کسی بات کے کہنے سے روکنا ضروری ہے اس قدر ا مرحق روکنا کے اظہار کے لیے کھولنا لازمی امر ہے۔يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ مومنوں کی شان ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنی عملی حالت ثابت کر دکھائے کہ وہ اس قوت کو اپنے اندر رکھتا ہے کیونکہ اس سے پیشتر کہ وہ دوسروں پر اپنا اثر ڈالے اس کو اپنی حالت اثر انداز