تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 197

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۷ سورة ال عمران ہوئی پالیسی پر ترجیح دی جاتی ہے حالانکہ ہمارے دین کی مصلحت اور ہماری خیر اور برکت اسی میں ہے کہ ہم انسانی منصوبوں کی کچھ پرواہ نہ کریں اور خدا تعالیٰ کی ہدایتوں پر قدم مار کر اس کی نظر میں سعادت مند بندے ٹھہر جائیں۔خدا نے ہمیں اس وقت کے لئے کہ جب ہمارے مذہب کی توہین کی جائے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت سخت کلمات کہے جائیں کھلے کھلے طور پر ارشاد فرمایا ہے جو سورہ آل عمران کے آخر میں درج ہے اور وہ یہ ہے: وَلَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَ إِن تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (آل عمران : ۱۸۷)۔یعنی تم اہل کتاب اور دوسرے مخلوق پرستوں سے بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے۔تب اگر تم صبر کرو گے اور زیادتی سے بچو گے تو تم خدا کے نزدیک اولوا العزم شمار کئے جاؤ گے۔ایسا ہی اس دوسرے وقت کے لئے کہ جب ہمارے مذہب پر اعتراض کئے جائیں۔یہ ارشاد فرمایا ہے: اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِىَ اَحْسَنُ (النحل : ١٢٦) - وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔یعنی جب تو عیسائیوں سے مذہبی بحث کرے تو حکیمانہ طور پر معقول دلائل کے ساتھ کر اور چاہئیے کہ تیرا وعظ پسندیدہ پیرا یہ میں ہو اور تم میں سے ہمیشہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت کریں اور ایسی باتوں کی طرف لوگوں کو بلاویں جن کی سچائی پر عقل اور سلسلہ سماوی گواہی دیتے رہے ہیں اور ایسی باتوں سے منع کریں جن کی سچائی سے عقل اور سلسلہ سماوی انکار کرتے ہیں۔جو لوگ یہ طریق اختیار کریں اور اس طرح پر بنی نوع کو دینی فائدہ پہنچاتے رہیں وہی ہیں جو نجات پاگئے۔البلاغ - فریاد درد، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳۸۹ تا ۳۹۱) ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرمایا کہ: انا اعطيتك الكوثر (الكوثر : ٢) اور دوسری طرف اس امت کو : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ کہا تا کہ یہودیوں پر ز د ہو مگر میرے مخالف عجیب بات کہتے ہیں کہ یہ امت با وجود خیر الامہ ہونے کے پھر شر الامتہ ہے۔بنی اسرائیل میں تو عورتوں تک کو شرف مکالمہ البیہ دیا گیا مگر اس امت کے مرد بھی خواہ کیسے ہی متقی ہوں اور خدا تعالیٰ کی رضا جوئی میں مریں اور مجاہدہ کریں مگر ان کو حصہ نہیں دیا جائے گا اور یہی جواب ان کے لیے خدا کی طرف سے ہے کہ بس تمہارے لیے مہر لگ چکی ہے !!! اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی اور اس پر سور قطن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین اور اسلام کی ہتک کیا ہوگی ؟ دوسری قوموں کو ملزم کرنے کے لئے یہی تو زبر دست اور بے مثل اوزار