تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 196
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۶ سورة ال عمران یہ ذکر تو جملہ معترضہ کی طرح درمیان آ گیا اب میں اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ یہ پالیسی ہر گز صحیح نہیں ہے کہ ہم مخالفوں سے کوئی دکھ اٹھا کر کوئی جوش دکھاویں یا اپنی گورنمنٹ کے حضور میں استغاثہ کریں۔جو لوگ ایسے مذہب کا دم مارتے ہیں جیسا کہ اسلام، جس میں یہ تعلیم ہے کہ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ یعنی تم ایک امت اعتدال پر قائم ہو جو تمام لوگوں کے نفع کے لئے پیدا کی گئی ہو۔کیا ایسے لوگوں کو زیبا ہے جو بجائے نفع رسانی کے آئے دن مقدمات کرتے رہیں؟ کبھی میموریل بھیجیں اور کبھی فوجداری میں نالش کر دیں اور کبھی اشتعال ظاہر کریں اور صبر کا نمونہ کوئی بھی نہ دکھا وہیں۔ذرہ غور کر کے دیکھنا چاہئیے کہ جولوگ تمام گم گشتہ انسانوں کو رحم کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کے بڑے بڑے حوصلے چاہئیں۔ان کی ہر ایک حرکت اور ہر ایک ارادہ صبر اور بردباری کے رنگ سے رنگین ہونا چاہئیے۔سو جو تعلیم خدا نے ہمیں قرآن شریف میں اس بارے میں دی ہے وہ نہایت صحیح اور اعلیٰ درجہ کی حکمتوں کو اپنے اندر رکھتی ہے جو ہمیں صبر سکھاتی ہے۔یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام رومی سلطنت کے ماتحت خدا تعالیٰ سے مامور ہو کر آئے تو خدا تعالیٰ نے ان کے ضعف اور کمزوری کے لحاظ سے یہی تعلیم ان کو دی کہ شرکا مقابلہ ہرگز نہ کرنا بلکہ ایک طرف طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دو اور یہ تعلیم اس کمزوری کے زمانہ کے نہایت مناسب حال تھی۔ایسا ہی مسلمانوں کو وصیت کی گئی تھی کہ ان پر بھی ایک کمزوری کا زمانہ آئے گا اسی زمانہ کے ہم رنگ جو حضرت مسیح پر آیا تھا اور تاکید کی گئی تھی کہ اس زمانہ میں غیر قوموں سے سخت کلمے سن کر اور ظلم دیکھ کر صبر کریں۔سومبارک وہ لوگ جو ان آیات پر عمل کریں اور خدا کے گنہگار نہ بنیں۔قرآن شریف کو غور سے دیکھیں کہ اُس کی تعلیم اس بارے میں دو پہلور رکھتی ہے۔ایک اس ارشاد کے متعلق ہے کہ جب پادری وغیرہ مخالف ہمیں گالیاں دیں اور ستاویں اور طرح طرح کی بد زبانی کی باتیں ہمارے دین اور ہمارے نبی علیہ السلام اور ہمارے چراغ ہدایت قرآن شریف کے حق میں کہیں تو اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئیے۔دوسرا پہلو اس ارشاد کے متعلق ہے کہ جب ہمارے مخالف ہمارے دین اسلام اور ہمارے مقتدا اور پیشوا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کی نسبت دھوکہ دینے والے اعتراض شائع کریں اور کوشش کریں کہ تا دلوں کو سچائی سے دور ڈالیں تو اس وقت ہمیں کیا کرنا فرض ہے۔یہ دونوں حکم اس قسم کے ضروری تھے کہ مسلمانوں کو یادر کھنے چاہئیں تھے۔مگر افسوس ہے کہ اب معاملہ برعکس ہے اور جوش میں آنا اور مخالف موذی کی ایذا کے فکر میں لگ جانا غازہ دینداری ٹھہر گیا ہے اور انسانی پالیسی کو خدا کی سکھلائی 1