تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 195

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۵ سورة ال عمران وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، وَمَا قَالَ اقْتُلُوهُمْ طور پر بحث کرو اور یہ نہیں کہا کہ ان کو تلواروں سے قتل کر بِالسُّيُوفِ وَالصَّوَارِمِ إِلَّا بَعْدَ صَدِهِمْ عَنْ ڈالو ۔ مگر اس حالت میں جبکہ وہ دین سے روکیں اور سَبِيلِ اللهِ وَمَكْرِهِمْ لِإِطْفَاءِ نُورِ اسلام کا نور بجھانے کے لئے منصوبے برپا کریں اور الْإِسْلَامِ وَقِيَامِهِمْ فِي مَقَامِ الْمَعَادِينَ دشمنوں کے مقام میں کھڑے ہو جائیں ۔ نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۶۳ ) ( ترجمہ اصل کتاب سے ) اللہ تعالیٰ نے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تو ہمیں ہی فرمایا ہے۔ جو اعلیٰ درجہ کے خیر اور برکات تھے وہ اسی امت میں جمع ہوئے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ایسے وقت تک پہنچ گیا ہوا تھا کہ دماغی اور عقلی قومی پہلے کی نسبت بہت کچھ ترقی کر گئے تھے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸) اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذ باللہ ! اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے گو یا اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ جو کہا کہ : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ، یہ جھوٹ تھا۔ نعوذ باللہ ! اگر یہ معنی کیے جاویں کہ آیندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیر الامہ کی بجائے شر الامم ہوئی یہ امت۔ جب اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی نصیب نہ ہوا تو یہ تو : اولیكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ (الاعراف : ۱۸۰ ) ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہیے نہ کہ خیر الامم۔ الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه (۸) اگر یہودی ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ ( البقرۃ : ۶۲ ) کے مصداق ہو چکے ہیں اور نبوت اس خاندان سے منتقل ہو چکی ہے تو پھر یہ ناممکن ہے کہ مسیح دوبارہ اسی خاندان سے آوے۔ اگر یہ تسلیم کیا جاوے گا تو اس کا نتیجہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ادنی نبی مانا جاوے اور اس امت کو بھی ادنیٰ امت حالانکہ یہ قرآن شریف کے منشاء کے صریح خلاف ہے کیونکہ قرآن شریف نے تو صاف طور پر فرمایا: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ پھر اس امت کو خیر الامہ کی بجائے شر الامۃ کہو گے؟ اور اس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ پر حملہ ہوگا! مگر یقینا یہ سب جھوٹ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اعلیٰ درجہ کی تھی اور ہے اس لیے کہ وہ اب تک اپنا اثر دکھا رہی اور تیرہ سو سال گزرنے کے الحکم جلد ۹ نمبر ۳۸ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۵ صفحه ۵) بعد مطہر اور مقدس وجود پیدا کرتی ہے۔