تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 194

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۴ سورة ال عمران اپنی طرف سے رُوح پھونک دی۔اس میں اشارہ تھا کہ مسیح ابن مریم میں کلمۃ اللہ ہونے کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ آخری مسیح بھی کلمتہ اللہ ہے اور روح اللہ بھی بلکہ ان دونوں صفات میں وہ پہلے سے زیادہ کامل ہے جیسا کہ سورۃ تحریم اور سورۃ فاتحہ اور سورۃ النور اور آیت : كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سے سمجھا جاتا ہے۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۸۴) تمام انبیاء کے متفرق کمالات تھے اور متفرق طور پر اُن پر فضل اور انعام ہوا۔اب اس امت کو یہ دُعا سکھلائی گئی کہ اُن تمام متفرق کمالات کو مجھ سے طلب کرو۔پس ظاہر ہے کہ جب متفرق کمالات ایک جگہ جمع ہو جائیں گے تو وہ مجموعہ متفرق کی نسبت بہت بڑھ جائے گا۔اسی بنا پر کہا گیا کہ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ یعنی تم اپنے کمالات کے رُو سے سب اُمتوں سے بہتر ہو۔چشمه سیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۸۱،۳۸۰) اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان نبی مبعوث فرمایا جس کی امت کو كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاس کہا کہ تم تمام امتوں سے بہتر ہو کیونکہ وہ لوگ جن کو شریعت قصہ کے رنگ میں ملی تھی وہ دماغی علوم کی کتاب و شریعت کے ماننے والوں کے کب برابر ہو سکتے ہیں؟ پہلے صرف قصص پر راضی ہو گئے اور ان کے دماغ اس قابل نہ تھے کہ حقائق ومعارف کو سمجھ سکتے مگر اس امت کے دماغ اعلیٰ درجہ کے تھے اسی لیے شریعت اور کتاب علوم کا خزانہ ہے جو علوم قرآن مجید لے کر آیا ہے وہ دنیا کی کسی کتاب میں پائے نہیں جاتے اور جیسے شریعت کے نزول کے وقت وہ اعلیٰ درجہ کے حقائق و معارف سے لبریز تھی ویسے ہی ضروری تھی ترقی علوم و فنون سب اسی زمانہ میں ہوتا بلکہ کمال انسانیت بھی اسی میں الحکم جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹،۸) وَقَدْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ وَ لَتَكُن اور قرآن میں اس نے یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَ يَأْمُرُونَ ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے رہیں جو نیکی کی طرف بلاویں اور بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَمَا قَالَ امر معروف اور نہی منکر کریں اور یہ نہیں کہا کہ تم میں سے وَلْتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَقْتُلُونَ الْكُفَّارَ لوگ ہمیشہ ایسے ہوتے رہیں کہ جو کافروں کو قتل کریں وَيَدْخُلُونَهُمْ جَبْرًا فِي دِينِهِمْ وَقَالَ اور ان کو اپنے دین میں جبراً داخل کرتے رہیں اور اس جَادِلْهُمْ أَى جَادِلِ النَّصَارَى بِالْحِكْمَةِ نے ی تو کہا کہ عیسائیوں سے حکمت اور نیک نصیحت کے پورا ہوا۔