تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 193
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۳ سورة ال عمران ریا پر چلا جائے گا اور تمام پیری مریدی اور شاگردی استادی اور افادہ استفادہ معرضِ زوال میں آجائے گا اس لئے آسمان کا خدا ایک شخص کو اپنے ہاتھ سے تربیت دے کر بغیر توسط زمینی سلسلوں کے زمین پر بھیجے گا جیسے کہ بارش آسمان سے بغیر توسط انسانی ہاتھوں کے نازل ہوتی ہے۔(تحفہ گولر ویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۲۰ تا ۱۲۳) اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک مثال کے طور پر سمجھا دیا تھا کہ میں اسی طور پر اس امت میں خلیفے پیدا کرتا رہوں گا جیسے موسیٰ کے بعد خلیفے پیدا کئے تو دیکھنا چاہیئے کہ موسیٰ کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے کیا معاملہ کیا ؟ کیا اس نے صرف تین برس تک خلیفے بھیجے یا چودہ سو برس تک اس سلسلہ کولمبا کیا پھر جس حالت میں خدا تعالیٰ کا فضل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہیں زیادہ تھا چنانچہ اس نے خود فرمایا: وَ كَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ( النساء : ۱۱۴ ) ایسا ہی اس امت کی نسبت فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تو پھر کیوں کر ہوسکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ ممتد ہو اور اس جگہ صرف تیس برس تک خلافت کا خاتمہ ہو جاوے اور نیز جب کہ یہ امت خلافت کے انوار روحانی سے ہمیشہ کے لئے خالی ہے تو پھر آیت اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے کیا معنی ہیں کوئی بیان تو کرے۔مثل مشہور ہے کہ او خویشتن گم است کرار ہبری کند۔جب کہ اس امت کو ہمیشہ کے لئے اندھا رکھنا ہی منظور ہے اور اس مذہب کو مردہ رکھتا ہی مد نظر ہے تو پھر یہ کہنا کہ تم سب سے بہتر ہو اور لوگوں کی بھلائی اور رہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا اندھا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے؟ سواے لوگو! جو مسلمان کہلاتے ہو برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں پھر کیوں کر کہتے ہو کہ خلافت صرف تیس برس تک ہوکر پھر زاویہ عدم میں مخفی ہوگئی۔اتقوا اللہ! اتقوا اللہ! اتقوا الله! شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۵،۳۵۴) ایسے شخص کو جو مریمی صفت سے محض خدا کے نفخ سے عیسوی صفت حاصل کرنے والا تھا اُس کا نام سورۃ تحریم میں ابن مریم رکھ دیا ہے کیونکہ فرمایا ہے کہ جبکہ مثالی مریم نے بھی تقویٰ اختیار کیا تو ہم نے