تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 191

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۹۱ سورة ال عمران نے الناس سے مراد دجال معہود ہی لیا ہے دیکھو تفسیر معالم وغیرہ اور قرینہ قو یہ اس پر یہ ہے کہ لکھا ہے کہ دجال معہود اپنی ایجادوں اور صنعتوں سے خدا تعالیٰ کے کاموں پر ہاتھ ڈالے گا اور اس طرح پر خُدائی کا دعوی کرے گا اور اس بات کا سخت حریص ہوگا کہ خدائی باتیں جیسے بارش برسانا اور پھل لگانا اور انسان وغیر ہ حیوانات کی نسل جاری رکھنا اور سفر اور حضر اور صحت کے سامان فوق العادت طور پر انسان کے لئے مہیا کرنا ان تمام باتوں میں قادر مطلق کی طرح کارروائیاں کرے اور سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہو جائے اور کوئی بات اس کے آگے انہونی نہ رہے اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے اور خلاصہ مطلب آیت یہ ہے کہ زمین آسمان میں جس قدر اسرار رکھے گئے ہیں جن کو دقبال بذریعہ علم طبعی اپنی قدرت میں کرنا چاہتا ہے وہ اسرار اُس کے اندازہ جودت طبع اور مبلغ علم سے بڑھ کر ہیں اور جیسا کہ آیت ممدوحہ میں الناس کے لفظ سے دجال مراد ہے۔ایسا ہی آیت اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ میں بھی الناس کے لفظ سے دجال ہی مراد ہے۔کیونکہ تقابل کے قرینہ سے اس آیت کے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ كُنْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ اخْرِجَتْ لِشَّرِ النَّاسِ اور شتر الناس سے بلا شبہ گروہ دجال مراد ہے کیونکہ حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ آدم سے قیامت تک شرانگیزی میں دجال کی مانند نہ کوئی ہوا اور نہ ہوگا اور یہ ایک ایسی محکم اور قطعی دلیل ہے کہ جس کے دونوں حصے یقینی اور قطعی اور عقائد مسلمہ میں سے ہیں۔یعنی جیسا کہ کسی مسلمان کو اس بات سے انکار نہیں کہ یہ اُمت خیر الامم ہے اسی طرح اس بات سے بھی انکار نہیں کہ گروہ دجال شتر الناس ہے اور اس تقسیم پر یہ دو آیتیں بھی دلالت کرتی ہیں جو سورۃ لم یکن میں ہیں إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا أُولَبِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ ، إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصلحتِ أُولبِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّة ( البينة : ،۸۔دیکھو اس آیت کے رو سے ایک ایسے گروہ کوشر البریہ کہا گیا ہے جس میں سے گروہ دجال ہے اور ایسے گروہ کو خیر البریہ کہا گیا ہے جو امت محمدیہ ہے۔بہر حال آيت خير الہ کا لفظ الناس کے ساتھ مقابلہ ہو کر قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ الناس سے مراد دجال ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔اور اس مقصد پر ایک یہ بھی بزرگ قرینہ ہے کہ خدا کی عادت حکیمانہ یہی چاہتی ہے کہ جس نبی کے عہد نبوت میں دجال پیدا ہو۔اُسی نبی کی امت کے بعض افراد اس فتنہ کے فرو کرنے والے ہوں نہ یہ کہ فتنہ تو پیدا ہو دے عہد نبوت محمدیہ میں اور کوئی گزشتہ نبی اس کے فرو کرنے کے لئے نازل ہو اور یہی قدیم سے اور جب سے کہ شریعتوں کی بنیاد پڑی سنت اللہ ہے کہ جس کسی نبی کے عہد نبوت میں کوئی