تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 187

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۷ سورة ال عمران حبل سے حدیثیں مراد ہیں؟ پھر جس حالت میں وہ اس حبل سے پنجہ مارنے کیلئے تاکید شدید فرماتا ہے تو کیا اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم ہر ایک اختلاف کے وقت قرآن کریم کی طرف رجوع کریں؟ الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۷) چاہئے کہ تمہارے تمام اعضاء اور تمام قوتیں خدا کی تابع ہوں اور تم سب ایک ہوکر اُس کی اطاعت لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۵۷) میں لگو ۔ وہ نمونہ دکھاؤ کہ غیروں کے لیے کرامت ہو۔ یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی : كُنتُم اَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ۔ یاد رکھو! تالیف ایک اعجاز ہے ۔ یاد رکھو! جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۰ صفحه ۹) وَ كُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا اور تھے تم ایک گڑھے کے کنارہ پر سواس سے تم کو خلاصی بخشی یعنی خلاصی کا سامان عطا فرمایا۔ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۰۱ حاشیه در حاشیه ۳) اور تم آگ کے گڑھے کے کنارہ تک پہنچ چکے تھے سو خدا نے تم کو اے ایماندار و نجات دی اسی طرح وہ اپنے نشان کو بیان فرماتا ہے تا تم ہدایت پا جاؤ۔ (براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلدا صفحه ۶۵۰) تم اس نبی کے آنے سے پہلے دوزخ کے گڑھے کے کنارہ پر پہنچ چکے تھے اور عیسائیوں اور یہودیوں کو بھی متنبہ کیا کہ تم نے اپنے دجل سے خدا کی کتابوں کو بدل دیا اور تم ہر یک شرارت اور بدکاری میں تمام قوموں کے پیشرو ہو اور بت پرستوں کو جا بجا ملزم کیا کہ تم پتھروں اور انسانوں اور ستاروں اور عناصر کی پرستش کرتے ہو اور خالق حقیقی کو بھول گئے ہو اور تم یتیموں کا مال کھاتے اور بچوں کو قتل کرتے اور شرکاء پر ظلم کرتے ہو اور ہر یک بات میں حد اعتدال سے گزر گئے ہو۔ ( نور القرآن نمبر، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۷، ۳۳۸) رات بہت بڑی رات گزر گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کی طرف جو تورات میں ہے اور آج تک کسی نے اس پر توجہ نہیں کی مگر خدا نے مجھے اس کی طرف متوجہ کیا پس اسی وقت میں نے تو رات نکالی اور اس کو دیکھا جو لوگ علوم الہیہ اور اس کے استعارات سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کو بیشک اس میں مزا آئے گا مگر جو حقائق سے حصہ نہیں رکھتے وہ اس پر ہنسی کریں گے۔