تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 3

سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نظر سے دیکھتا اور ٹھٹھے اور ہنسی میں ان کو اڑا دیتا ہے اور وہ امور جو ہنوز اس پر مشتبہ ہیں ان کو اعتراض کرنے کی دستاویز بناتا ہے اور ظالم طبع لوگ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔چنانچہ ظاہر ہے کہ ہر ایک نبی کی نسبت جو پہلے نبیوں نے پیشگوئیاں کیں ان کے ہمیشہ دو حصے ہوتے رہے ہیں؛ ایک بینات اور محکمات جن میں کوئی استعارہ نہ تھا اور کسی تاویل کی محتاج نہ تھیں اور ایک متشابہات جو محتاج تاویل تھیں اور بعض استعارات اور مجازات کے پردے میں محجوب تھیں پھر ان نبیوں کے ظہور اور بعثت کے وقت جو ان پیشگوئیوں کے مصداق تھے دو فریق ہوتے رہے ہیں۔ایک فریق سعیدوں کا جنہوں نے بینات کو دیکھ کر ایمان لانے میں تاخیر نہ کی اور جو حصہ متشابہات کا تھا اُس کو استعارات اور مجازات کے رنگ میں سمجھ لیا ، آئندہ کے منتظر رہے اور اس طرح پر حق کو پالیا اور ٹھو کر نہ کھائی۔حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا پہلی کتابوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دو طور کی پیشگوئیاں تھیں؛ ایک یہ کہ وہ مسکینوں اور عاجزوں کے پیرا یہ میں ظاہر ہوگا اور غیر سلطنت کے زمانہ میں آئے گا اور داؤد کی نسل سے ہوگا اور حلم اور نرمی سے کام لے گا اور نشان دکھلائے گا اور دوسری قسم کی یہ پیشگوئیاں تھیں کہ وہ بادشاہ ہوگا اور بادشاہوں کی طرح لڑے گا اور یہودیوں کو غیر سلطنت کی ماتحتی سے چھڑا دے گا اور اس سے پہلے ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور جب تک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے وہ نہیں آئے گا۔پھر جب حضرت عیسی نے ظہور فرمایا تو یہود دو فریق ہو گئے ؛ ایک فریق جو بہت ہی کم اور قلیل التعداد تھا اُس نے حضرت مسیح کو داؤد کی نسل سے پا کر اور پھر ان کی مسکینی اور عاجزی اور راست بازی دیکھ کر اور پھر آسمانی نشانوں کو ملاحظہ کر کے اور نیز زمانہ موجودہ کو دیکھ کر کہ وہ ایک نبی مصلح کو چاہتی ہے اور پہلی پیشگوئیوں کے قرار داد وقتوں کا مقابلہ کر کے یقین کر لیا کہ یہ وہی نبی ہے جس کا اسرائیل کی قوم کو وعدہ دیا گیا تھا سو وہ حضرت مسیح پر ایمان لائے اور اُن کے ساتھ ہو کر طرح طرح کے دُکھ اُٹھائے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک اپنا صدق ظاہر کیا۔لیکن جو بدبختوں کا گر وہ تھا اس نے کھلی کھلی علامتوں اور نشانوں کی طرف ذرہ التفات نہ کیا یہاں تک کہ زمانہ کی حالت پر بھی ایک نظر نہ ڈالی اور شریرا نہ حجت بازی کے ارادے سے دوسرے حصے کو جو متشابہات کا حصہ تھا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور نہایت گستاخی سے اُس مقدس کو گالیاں دینی شروع کیں اور اس کا نام ملحد اور بے دین اور کا فر رکھا اور یہ کہا کہ یہ شخص پاک نوشتوں کے اُلٹے معنے کرتا ہے اور اس نے ناحق ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کی تاویل کی ہے اور نص صریح کو اُس کے ظاہر سے پھیرا ہے اور ہمارے علماء کو مکار اور ریا کا رکہتا ہے اور