تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 2
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام b سورة ال عمران هُوَ الَّذِى اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أَيتَ مُحْكَمْتَ هُنَّ أُمُّ الْكِتَب وَ أَخَرُ مُتَشْبِهنَّ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَنَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَ مَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَةَ إِلَّا اللهُ وَ الرسخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ أَمَنَا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا يَذَّكَرُ إلا أولوا الألباب۔پیشگوئیوں کے ہمیشہ دو حصہ ہوا کرتے ہیں اور آدم سے اس وقت تک یہی تقسیم چلی آرہی ہے کہ ایک حصہ متشابہات کا ہوا کرتا ہے اور ایک حصہ بینات کا۔اب حدیبیہ کے واقعات کو دیکھا جاوے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو سب سے بڑھ کر ہے مگر علم کے لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ آپ کا سفر کرنا دلالت کرتا تھا کہ آپ کی رائے اسی طرف تھی کہ فتح ہوگی۔نبی کی اجتہادی غلطی جائے عار نہیں ہوا کرتی اصل صورت جو معاملہ کی ہوتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے انسان اور خدا میں یہی تو فرق ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۷ ۱۴) ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لینا جبکہ ابھی علم کمال تک نہیں پہنچا اور شکوک اور شبہات سے ہنوز لڑائی سے پس جو شخص ایمان لاتا ہے یعنی با وجود کمزوری اور نہ مہیا ہونے کل اسباب یقین کے، اس بات کو اغلب احتمال کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے وہ حضرت احدیت میں صادق اور راستبا ز شمار کیا جاتا ہے اور پھر اس کو موہت کے طور پر معرفت تامہ حاصل ہوتی ہے اور ایمان کے بعد عرفان کا جام اس کو پلایا جاتا ہے اس لیے ایک مرد متقی رسولوں اور نبیوں اور مامورین من اللہ کی دعوت کو سن کر ہر ایک پہلو پر ابتداء امر میں ہی حملہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ حصہ جو کسی مامور من اللہ کے ہونے پر بعض صاف اور کھلے کھلے دلائل سے سمجھ آجاتا ہے اسی کو اپنے اقرار اور ایمان کا ذریعہ ٹھہر الیتا ہے اور وہ حصہ جو سمجھ میں نہیں آتا اس میں سنت صالحین کے طور پر استعارات اور مجازات قرار دیتا ہے اور اس طرح تناقض کو درمیان سے اٹھا کر صفائی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتا ہے تب خدا تعالیٰ اس کی حالت پر رحم کر کے اور اس کے ایمان پر راضی ہو کر اور اس کی دعاؤں کو سن کر معرفت تامہ کا دروازہ اس پر کھولتا ہے اور الہام اور کشوف کے ذریعے سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اس کو پہنچاتا ہے لیکن متعصب آدمی جو عناد سے پر ہوتا ہے ایسا نہیں کرتا اور وہ ان امور کو جو حق کے پہچاننے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں تحقیر اور توہین کی