تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 180

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۰ سورة ال عمران تحبون حقیقت میں کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی جب تک اپنے پیارے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے دین کی اشاعت اور اس کی مخلوق کی ہمدردی کے لیے خرچ نہ کرو۔(احکام جلد ۹ نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۹) اس وقت تک تم حقیقی نیکی کو حاصل ہی نہیں کر سکتے جب تک تم اس چیز کو خرچ نہ کرو گے جو تم کو سب سے زیادہ عزیز اور محبوب ہے۔الخام جلد ۱۰ نمبر امورخه ۱۰ر جنوری ۱۹۰۶ صفحه (۴) مال سے محبت نہ کرو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَنْ تَنَالُوا الْبِرِّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ یعنی تم پر تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ مال خرچ نہ کر وجس کو تم عزیز رکھتے ہو۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۹) مولوی حکیم نور دین صاحب اپنے اخلاص اور محبت اور صفت ایثار اور یلہ شجاعت اور سخاوت اور ہمدردی اسلام میں عجیب شان رکھتے ہیں۔کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر تقلیل خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں ہی دیکھی یا ان میں جن کے دلوں پر ان کی صحبت کا اثر ہے مولوی صاحب موصوف اب تک تین ہزار روپیہ کے قریب للہ اس عاجز کو دے چکے ہیں اور جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں۔اگر چہ یہ طریق دنیا اور معاشرت کے اصولوں کے مخالف ہے مگر جو شخص خدائے تعالی کی ہستی پر ایمان لا کر اور دین اسلام کو ایک سچا اور منجانب اللہ دین سمجھ کر اور با ایں ہمہ اپنے زمانہ کے امام کو بھی شناخت کر کے اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی محبت اور عشق میں فانی ہو کر محض اعلاء کلمہ اسلام کے لئے اپنے مال حلال اور طیب کو اس راہ میں فدا کرتا ہے اس کا جو عند اللہ قدر ہے وہ ظاہر ہے اللہ جَلَّ شَانُهُ فرماتا ہے : کن تنَالُوا الْبِرَّ حَتى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ - خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار ای فکر میں رہتے ہیں روز و شب کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب اُسے دے چکے مال و جان بار بار ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار نشان آسمانی، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۱۰)