تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 173
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۳ سورة ال عمران اس آیت سے بنص صریح ثابت ہوا کہ تمام انبیاء جن میں حضرت مسیح بھی شامل ہیں مامور تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاویں اور انہوں نے اقرار کیا کہ ہم ایمان لائے۔ ریویو آف ریلیجنز جلد انمبر ۵ صفحه (۱۹۱) قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَ مَا أُنْزِلَ عَلَى ابْرَاهِيمَ وَ اسْمَعِيلَ وَ اسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَ الْأَسْبَاطِ وَ مَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ) میں اس وقت کسی خاص قوم کو بے وجہ ملامت کرنا نہیں چاہتا اور نہ کسی کا دل دُکھانا چاہتا ہوں بلکہ نہایت افسوس سے آہ کھینچ کر مجھے یہ کہنا پڑا ہے کہ اسلام وہ پاک اور صلح کار مذہب تھا جس نے کسی قوم کے پیشوا پر حملہ نہیں کیا اور قرآن وہ قابل تعظیم کتاب ہے جس نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی اور ہر ایک قوم کے نبی کو مان لیا اور تمام دنیا میں یہ فخر خاص قرآن شریف کو حاصل ہے۔ جس نے دنیا کی نسبت ہمیں ی تعلیم دی کہ : لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ یعنی تم اسے مسلمانو! یہ کہو کہ ہم دُنیا کے تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں تفرقہ نہیں ڈالتے کہ بعض کو مانیں اور بعض کو رد کر دیں۔ اگر ایسی صلح کار کوئی اور الہامی کتاب ہے تو اس کا نام لو، قرآن شریف نے خدا کی عامہ رحمت کو کسی خاندان کے ساتھ مخصوص نہیں کیا۔ اسرائیلی خاندان کے جتنے نبی تھے کیا یعقوب اور کیا اسحق اور کیا موسیٰ اور کیا داؤد اور کیا عیسی سب کی نبوت کو مان لیا اور ہر ایک قوم کے نبی خواہ ہند میں گزرے ہیں اور خواہ فارس میں کسی کو مکار اور کذاب نہیں کہا بلکہ صاف طور پر کہہ دیا کہ ہر ایک قوم اور بستی میں نبی گزرے ہیں اور تمام قوموں کے لئے صلح کی بنیاد ڈالی ۔ مگر افسوس کہ اس صلح کے نبی کو ہر یک قوم گالی دیتی ہے اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔ پیغام صلح ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۶۰،۴۵۹) وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ جو کوئی بجز اسلام کے کسی اور دین کو چاہے گا تو ہر گز قبول نہیں کیا جاوے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا۔ جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۸۵)