تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 172
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۲ ہم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی اور دیدہ دانستہ خدا پر جھوٹ بولتے ہیں۔سورة ال عمران چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۴۱، ۲۴۲) وَإِذْ اَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُم مِّنْ كِتَب وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولُ مُّصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ ۖ قَالَ ء اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَ أَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّهِدِينَ اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا، تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی اور کہا کیا تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر استوار ہو گئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اقرار کر لیا۔تب خدا نے فرمایا کہ اب اپنے اقرار کے گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ اس بات کا گواہ ہوں۔اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہو گئے تھے۔یہ حکم ہر نبی کی امت کے لیے ہے کہ جب وہ رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لاؤ ورنہ مؤاخذہ ہوگا۔اب بتلاویں میاں عبد الحکیم خان نیم ملا خطرہ ایمان ! کہ اگر صرف توحید خشک سے نجات ہو سکتی تو پھر خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے کیوں مؤاخذہ کرے گا جو گو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے مگر تو حید باری کے قائل ہیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۳، ۱۳۴) قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَه، پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہوئے اور پھر حضرت عیسی کو امتی بنانے کے کیا معنے ہیں؟ اور کون سی خصوصیت ؟ کیا وہ اپنے پہلے ایمان سے برگشتہ ہو گئے تھے جو تمام نبیوں کے ساتھ لائے تھے تا نعوذ باللہ ! یہ سزا دی گئی کہ زمین پر اتار کرد و باره تجدید ایمان کرالی جائے مگر دوسرے نبیوں کے لیے وہی پہلا ایمان کافی رہا کیا ایسی کچھی باتیں اسلام سے تمسخر ہے یا نہیں؟ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۰)