تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 168
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۸ سورة ال عمران میرے نزدیک مباہلہ تحریری بھی ہو سکتا ہے۔ مجموعہ اشتہارات ، جلد دوم صفحہ ۶۷۱) صلحا کی سنت قدیمہ سے ثابت ہے کہ مباہلہ کی غایت میعاد ایک سال تک ہوتی ہے۔ سو ہم بدیہی ثبوت اپنے پاس رکھتے ہیں کہ جن برکات کو ہم نے اپنی نسبت لکھا ہے وہ ایک سال کے اندر ہی ہم پر وارد ہوئیں۔ (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۴ حاشیه ) اصل مسنون طریق مباہلہ میں یہی ہے کہ جو لوگ ایسے مدعی کے ساتھ مباہلہ کریں جو مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ رکھتا ہو اور اس کو کاذب یا کافر ٹھہراویں وہ ایک جماعت مباہلین کی ہو۔ صرف ایک یا دو آدمی نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: فَقُلْ تَعَالَوْا میں تَعَالَوْا کے لفظ کو بصیغہ جمع بیان فرمایا ہے۔ سواس نے اس جمع کے صیغہ سے اپنے نبی کے مقابل پر ایک جماعت مکذبین کو مباہلہ کے لئے بلایا ہے نہ شخص واحد کو بلکہ مَنْ حَاجَت کے لفظ سے جھگڑنے والے ایک شخص واحد قرار دے کر پھر مطالبہ جماعت کا کیا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی جھگڑنے سے باز نہ آوے اور دلائل پیش کردہ سے تسلی نہ پکڑے تو اس کو کہہ دو کہ ایک جماعت بن کر مباہلہ کے لئے آویں۔ سواسی بنا پر ہم نے جماعت کی قید لگا دی ہے۔ جس میں یہ صریح فائدہ ہے کہ جو امر خارق عادت بطور عذاب مکذبین پر نازل ہو وہ مشتبہ نہیں رہے گا مگر صرف ایک شخص میں مشتبہ رہنے کا احتمال ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ا اصفحه ۳۱۹، ۳۲۰) مسیح کا بندہ ہونا بالکل سچ اور شک سے منزہ ہے اور اگر اب بھی عیسائی لوگ مسیح ابن مریم کی الوہیت پر تجھ سے جھگڑا کریں اور خدا تعالیٰ کے اس بیان کو جو مسیح در حقیقت آدم کی طرح ایک بندہ ہے گو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ دروغ سمجھیں اور انسان کا افترا خیال کریں تو ان کو کہہ دے کہ اپنے عزیزوں کی جماعت کے ساتھ مباہلہ کے لئے آویں اور ادھر ہم بھی اپنی جماعت کے ساتھ مباہلہ کے لئے آویں گے پھر جھوٹوں پر لعنت کریں گے۔ اب اس تمام بیان سے بوضاحت کھل گیا کہ مسنون طریق مباہلہ کا یہ ہے کہ جو شخص مباہلہ کی درخواست کرے اس کے دعوی کی بنا ایسے یقین پر ہو جس یقین کی وجہ سے وہ اپنے فریق مقابل کو قطعی طور پر مفتری اور کا ذب خیال کرے اور اس یقین کا اس کی طرف سے بصراحت اظہار چاہیے کہ میں اس اس شخص تح کو مفتری جانتا ہوں نہ صرف ظن اور شک کے طور سے بلکہ کامل یقین سے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں ظاہر فرمایا ہے۔