تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 167
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۷ سورة ال عمران میں دکھائے! یہ بڑا بھاری قرضہ نصاری کی گردن پر ہے اور تیرہ سو برس سے برابر چلا آتا ہے۔ ان کی غیرت کا اگر ان میں ہوتی یہ مقتضاء ہونا چاہیے تھا کہ اس خطر ناک الزام سے بری ہوتے۔ کہاں یہ کہ وہ ایک شخص کو خدا اور الفا امیگا (ALPHA & OMEGA لے کہیں اور کہاں یہ کہ اسلام مٹی سے بنے ہوئے آدمی سے کسی طرح بھی بڑھ کر اسے نہ مانے اور نہ ماننے دے۔ الحکم جلد نمبر ۲۲ مورخہ ۷ ارجون ۱۹۰۳ء صفحہ ۴) اب وہ ابن مریم جس کا روحانی باپ زمین پر بجز معلم حقیقی کے کوئی نہیں جو اس وجہ سے آدم سے بھی مشابہت رکھتا ہے بہت سا خزانہ قرآن کریم کا لوگوں میں تقسیم کرے گا یہاں تک کہ لوگ قبول کرتے کرتے تھک جائیں گے اور لا يَقْبِلُهُ أَحَدٌ کا مصداق بن جائیں گے اور ہر یک طبیعت اپنے ظرف کے مطابق پر ہو جائے گی ۔ وہ خلافت جو آدم سے شروع ہوئی تھی خدائے تعالیٰ کی کامل اور بے تغیر حکمت نے آخر کار آدم پر ہی ختم کر دی یہی حکمت اس الہام میں ہے کہ: آردت أَنْ اسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ یعنی میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کر دیا چونکہ استدارت زمانہ کا یہی وقت ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر ناطق ہیں اس لئے خدائے تعالیٰ نے آخر اور اوّل کے لفظ کو ایک ہی کرنے کے لئے آخری خلیفے کا نام آدم رکھا اور آدم اور عیسی میں کسی وجہ سے روحانی مبائیت نہیں بلکہ مشابہت ہے : ان (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۷) مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ - فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ ابْنَاءَنَا وَ ابْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ انْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ ۔ ان کو کہہ دے کہ آؤ ! ہم اور تم معہ اپنی عورتوں اور بیٹوں اور عزیزوں کے مباہلہ کریں پھر ان پر لعنت کریں جو کا ذب ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۶۵) مباہلہ کے معنے لغت عرب کے رو سے اور نیز شرعی اصطلاح کے رو سے یہ ہیں کہ دو فریق مخالف ایک دوسرے کے لئے عذاب اور خدا کی لعنت چاہیں ۔ (اربعین، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۷۷ حاشیہ ) BEGINNING AND THE END