تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 1
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ سورة ال عمران بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسیر سورة آل عمران بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الم الله إِلهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ مُصَدِقَا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَ اَنْزَلَ التَّورِيةَ وَالْإِنْجِيلَ وہی اللہ ہے اس کا کوئی ثانی نہیں، اسی سے ہر ایک کی زندگی اور بقا ہے، اس نے حق اور ضرورت حقہ کے ساتھ تیرے پر کتاب اتاری۔(نور القرآن نمبر اروحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۴) قرآنی عقیدہ یہ بھی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق اور پیدا کنندہ ہے اسی طرح وہ ہر ایک چیز کا واقعی اور حقیقی طور پر قیوم بھی ہے یعنی ہر ایک چیز کا اسی کے وجود کے ساتھ بتا ہے اور اس کا وجود ہر یک چیز کے لیے بمنزلہ جان ہے اور اگر اس کا عدم فرض کر لیں تو ساتھ ہی ہر یک چیز کا عدم ہوگا۔غرض ہر یک وجود کے بقا اور قیام کے لیے اس کی معیت لازم ہے۔(ست بیکن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۹۹) بقا مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ۚ إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِأَيْتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ٥ جولوگ خدا تعالیٰ کی آیتوں سے منکر ہو گئے ان کے لیے سخت عذاب ہے اور خدا غالب، بدلہ لینے والا ہے۔اب صاف ظاہر ہے کہ اس آیت میں بھی منکروں کے لیے عذاب کا وعدہ ہے لہذا ضرور تھا کہ ان پر عذاب نازل ہوتا۔پس خدا تعالیٰ نے تلوار کا عذاب ان پر وارد کیا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۱) b