تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 1 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 1

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ 1 سورة ال عمران بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة آل عمران بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ المى اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَ انْزَلَ التَّوْرِيةَ وَالْإِنْجِيلَ وہی اللہ ہے اس کا کوئی ثانی نہیں، اسی سے ہر ایک کی زندگی اور بقا ہے، اس نے حق اور ضرورت حقہ کے ساتھ تیرے پر کتاب اتاری۔ ( نور القرآن نمبر ا روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۳۴) قرآنی عقیدہ یہ بھی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق اور پیدا کنندہ ہے اسی طرح وہ ہر ایک چیز کا واقعی اور حقیقی طور پر قیوم بھی ہے یعنی ہر ایک چیز کا اسی کے وجود کے ساتھ بقا ہے اور اس کا وجود ہر یک چیز کے لیے بمنزلہ جان ہے اور اگر اس کا عدم فرض کر لیں تو ساتھ ہی ہر یک چیز کا عدم ہوگا۔ غرض ہر یک وجود کے بقا اور قیام کے لیے اس کی معیت لازم ہے۔ (ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۹۹) مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی آیتوں سے منکر ہو گئے ان کے لیے سخت عذاب ہے اور خدا غالب، بدلہ لینے والا ہے۔ اب صاف ظاہر ہے کہ اس آیت میں بھی منکروں کے لیے عذاب کا وعدہ ہے لہذا ضرور تھا کہ ان پر عذاب نازل ہوتا۔ پس خدا تعالیٰ نے تلوار کا عذاب ان پر وارد کیا۔ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه (۱۶۱)