تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 157

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۷ سورة ال عمران اس جگہ کفَرُوا سے مراد بھی یہود ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام محض یہودیوں کے لئے آئے تھے اور اس آیت میں وعدہ ہے کہ حضرت مسیح کو ماننے والے یہود پر قیامت تک غالب رہیں گے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۰۹) بموجب آیت کریمہ: وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ سب کا ایمان (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۷۴ حاشیہ ) لانا خلاف نص صریح ہے۔ هَذِهِ الْآيَةُ دَلِيلٌ قَطْعِيٌّ عَلَى أَنَّ یہ آیت اس بات پر قطعی دلیل ہے کہ مسلمان الْمُسْلِمِينَ وَالنَّصَارَى يَرِثُونَ الْأَرْضَ وَ اور نصاری قیامت تک زمین کے وارث رہیں گے يَتَمَلَكُونَ أَهْلَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لِأَنَّ الْمُسْلِمِينَ اتَّبَعُوا الْمَسِيحَ اتَّبَاعًا حَقِيقِيًّا کیونکہ مسلمان تو حضرت عیسی علیہ السلام کے حقیقی تبع و النَّصَارَى اتَّبَعُوهُ اتِّبَاعًا إِدْعَائِيًّا۔ ہیں اور نصاری ادعائی رنگ میں متبع ہیں ۔ - ( ترجمه از مرتب ) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۹۳ ، ۱۹۴ حاشیہ ) وَمَعْلُومُ أَنَّ كَوْنَ الْيَهُودِ مَغْلُوبِینَ یہ بات ظاہر ہے کہ یہود کا قیامت تک مغلوب إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَقْتَضِي وُجُودَهُمْ رہنا قیامت تک ان کے وجود، بقا اور کفر کو چاہتا ہے۔ وَبَقَاءَهُمْ وَكُفْرَهُمْ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ (حمامة البشرى، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۳۹ حاشیہ ) ( ترجمه از مرتب ) وَالْعَجَبُ كُلَّ الْعَجَبِ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ اور یہ بہت ہی تعجب انگیز ہے کہ وہ خدا کی آیات پر إِنَّا آمَنَّا بِآيَاتِ اللهِ ثُمَّ لَا يُؤْمِنُونَ، وَيَقُولُونَ ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں اور پھر ( در حقیقت) ایمان إِنَّا نَتَّبِعُ مُحْفَ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتَّبِعُونَ آلا نہیں لاتے اور وہ کہتے تو یہ ہیں کہ ہم اللہ کے صحیفوں کی پیروی کرتے ہیں پھر ( در حقیقت ان کی ) پیروی نہیں کرتے يَقْرَأُونَ فِي الْكِتَابِ الْأَعْلَى مَا قَالَ اللهُ فِي عِيسَى إِذْ قَالَ : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ، وَقَالَ: کیا وہ قرآن شریف میں وہ نہیں پڑھتے جو اللہ تعالیٰ نے عیسی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ یعیسی انی فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي، وَمَا قَالَ: إِنِّي مُحْيِيكَ فَمِنْ أَيْنَ مُتَوَفيك (اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا) اور فرمایا عُلِمَ حَيَاةُ الْمَسِيحِ بَعْدَ مَوْتِهِ الصَّرِيحِ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَني “ (پس جب تو نے مجھے وفات دی ) يُؤْمِنُونَ بِأَنَّهُ لَقِيَ الْأَمْوَاتَ، ثُمَّ يَقُولُونَ مَا اور یہ نہیں فرمایا کہ (میں تجھے زندہ کروں گا ) پس مسیح