تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 151
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۱ سورة ال عمران الْمُحَدِّثِ الْمَشْهُودِ لَهُ بِالتَّدْقِيْقَاتِ، فَإِنَّهُ مدارج السالکین میں فرمایا ہے کہ اگر موسی اور عیسی زندہ قَالَ فِي مَدَارَجِ السَّالِكِينَ إِنَّ مُوسَی ہوتے تو انہیں حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی وَعِيسَى لَوْ كَانَا حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمْ إِلَّا اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ اس کے بعد رسالہ الفوز اقْتِدَاءُ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ ثُمَّ بَعْدَ ذلِكَ الكبير اور فتح الخبیر پر غور کرو جو خیر البریہ صلی اللہ علیہ وسلم انْظُرُوا فِي الرِّسَالَةِ الْفَوْزِ الْكَبِيرِ وَفَتْحِ کے اقوال سے ہی قرآن کی تفسیر ہے اور حکیم الملت الْخَبِيْرِ الَّتِي هِيَ تَفْسِيرُ الْقُرْآنِ بِأَقْوَالِ (حضرت) شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تالیف ہے۔ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، وَهِيَ مِنْ وَلِي الله الدهلوي وہ فرماتے ہیں مُتَوَفِّيكَ : مُميتك انہوں نے اس حَكِيمِ الْمِلَّةِ، قَالَ مُتَوَفِّيكَ هُمِيتُكَ وَلَمْ کلمہ کے سوا اور کچھ نہیں کہا اور مشکوۃ نبوت سے اخذ يَقُلْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلِمَةِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَعْنَى ہونے والے معنی کی اتباع کرتے ہوئے نہ ہی اس کے سِوَاهَا اتَّبَاعًا لِمَعْنَى خَرَجَ مِنْ مِشْكَاةِ سوا کسی اور معنی کا ذکر کیا ہے پھر (علامہ زمخشری کی النُّبُوَّةِ ثُمَّ انْظُرُ فِي الْكَشَّافِ، وَاتَّقِ الله كتاب) کشاف کو دیکھ اور اللہ سے ڈر اور ظلم کی راہوں کو وَلَا تَخْتَرْ طُرُقَ الْإِعْتِسَافِ كَمُجْتَرِثِينَ بے باکوں کی طرح اختیار نہ کر۔ ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ تَعْلَمُونَ عَقِيدَةَ الْفِرَقِ پھر تم اس کے بعد معتزلہ کے فرقوں کا عقیدہ جانتے الْمُعْتَزِلَةِ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْتَقِدُونَ بِحَيَاتِ ہو کہ وہ حیات مسیح کا عقیدہ نہیں رکھتے بلکہ اُنہوں نے عِيسَى، بَلْ أَقَرُّوا بِمَوْتِهِ وَأَدْخَلُوهُ فِي اُن کی وفات کا اقرار کیا ہے اور اِسے اپنے عقیدہ میں الْعَقِيدَةِ وَلَا شَكَ أَنَّهُمْ مِنَ الْمَذَاهِبِ داخل کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اسلامی الْإِسْلَامِيَّةِ، فَإِنَّ الْأُمَّةَ قَدِ افْتَرَقْتَ بَعْدَ مسالک میں سے ہیں کیونکہ تیسری صدی کے بعد اُمت الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ، وَلَا يُنْكَرُ افْتِرَاقُ هَذِهِ فرقوں میں بٹ گئی تھی اور اس ملت کے گروہوں میں بٹنے الْمِلَّةِ، وَالْمُعْتَزِلَةُ أَحَدٌ مِنَ الطَّوَائِفِ سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور معتزلہ بھی اُن متفرق فرقوں الْمُتَفَرِّقَةِ وَقَالَ الْإِمَامُ عَبْدُ الْوَهَّابِ میں سے ایک ہے ۔ امام عبد الوھاب شعرانی ” جو الشَّعْرَانِي الْمَقْبُولُ عِنْدَ الثَّقَاتِ، فِي كِتَابِهِ مستند علماء کے ہاں بہت مقبول ہیں وہ اپنی مشہور کتاب الْمَعْرُوفِ بِاسْمِ الطَّبَقَاتِ وَكَانَ الطبقات میں فرماتے ہیں کہ ”میرے بزرگ افضل سَيِّدِي أَفْضَلُ الدِّينِ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ كَثِيرُ الدین رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ صوفیاء کا اکثر کلام ظاہراً