تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 147

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۷ سورة ال عمران وَقَدْ أَقَرَّ الْمَسِيحُ فِي الْقُرْآنِ أَنَّ فَسَادَ قرآن میں مسیح کا یہ اقرار موجود ہے کہ اُن کی موت کے أُمَّتِهِ مَا كَانَ إِلَّا بَعْدَ مَوْتِهِ، فَإِنْ كَانَ بعد ہی ان کی اُمت میں بگاڑ ظاہر ہوا۔ پھر اگر عیسی (علیہ عِيسَى لَمْ يَمُتُ إِلَى الْآنَ، فَلَزِمَكَ أَنْ السلام ) اب تک فوت نہیں ہوئے تو تمہیں لازما یہ مانا پڑے گا تَقُولَ إِنَّ النَّصَارَى مَا أَفْسَدُوا مَنْ هَبَهُمْ کہ نصاری نے اب تک اپنے مذہب کو نہیں بگاڑا اور جن إِلَى هَذَا الزَّمَانِ، وَالَّذِينَ نَحْتُوا مَعْنَى أَخَرَ لوگوں نے توفی کے کوئی اور معنی گھڑ لئے ہیں تو ایسے معنی لِلتَّوَفَّى فَهُوَ بَعِيدٌ عَنِ التَّشَفِي، وَإِنْ هُوَ إِلَّا ناقابلِ اطمینان ہیں اور یہ صرف اور صرف ان کی خواہشات مِنْ أَهْوَائِهِمْ، وَفَسَادِ أَرَائِهِمْ، مَا أَنْزَلَ اور اُن کے خیالات کا فتور ہے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اللهُ بِهِ مِنْ سُلْطَانٍ، كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى أَهْلِ کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ جیسا کہ یہ امر اہل علم اور بیدار دل الْخِبْرَةِ وَقَلْبِ يَقْظَانٍ وَإِن لَّمْ يَنْتَهُوا رکھنے والوں پر مخفی نہیں۔ اگر وہ کین رکھنے کی وجہ سے باز نہ آئے حِقْدًا، وَأَصَرُّوا عَلَى الْكَذِبِ عَمدًا، اور عمدا جھوٹ پر اصرار کرتے رہے تو اُن کو (اپنے) معانی فَلْيُخْرِجُوا لَنَا عَلَى مَعْنَاهُمْ سَنَدًا، کے لئے کوئی سند ہمارے سامنے پیش کرنی چاہئے یا اگر وہ وَلْيَأْتُوا مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بِشَرْحِ مُسْتَنِدٍ بچے ہیں تو اللہ اور اُس کے رسول کی کوئی مستند شرح سامنے إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ وَقَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّ لائیں اور یہ تو تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا توفی کا لفظ صرف اِمَاتَتْ ( موت دینا) کے معنی میں بولا تَكَلَّمَ بِلَفْظِ التَّوَفَّى إِلَّا فِي مَعْنَى الْإِمَاتَةِ ہے۔ اور آپ تمام انسانوں میں سب سے گہرا علم رکھنے والے وَكَانَ أَعْمَقَ النَّاسِ عِلْمًا وَأَوَّلَ اور اول درجہ کے صاحب بصیرت تھے۔ قرآن میں بھی لفظ الْمُبَشِّرِينَ وَمَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ إِلَّا لِهَذَا توفى ان ہی معنوں میں آیا ہے۔اس لئے تم اللہ کے کلمات الْمَعْنَى فَلَا تُحَرِّفُوا كَلِمَاتِ اللهِ بِخَيَالِ میں (اپنے) گھٹیا خیال سے تحریف نہ کرو اور تم ان چیزوں کے أَدْنى، وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ الْسِنَتُكُمُ بارے میں جن کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی الْكَذِبَ ذَلِكَ حَقٌّ وَهُذَا بَاطِلُ، وَاتَّقُوا الله ہیں یہ نہ کہو کہ وہ حق ہے اور یہ باطل ہے۔ اگر تم متقی ہو تو اللہ إِنْ كُنْتُمْ مُتَّقِينَ سے ڈرو! لِمَ تَتَّبِعُونَ غَلَطًا وَرَجْمًا بِالْغَيْبِ، وَلَا تم غلط اور اٹکل پچو ( عقیدہ) کے پیچھے کیوں لگے ہوئے تَبْغُونَ تَفْسَيْرَ مَنْ هُوَ مُنَزَّةٌ مِنَ الْعَيْبِ ہو اور اُس کی تفسیر کو پسند نہیں کرتے جو ہر عیب سے منزہ اور