تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 139
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۹ سورة ال عمران نَوْمِهِ لَا بَعْدَ وَفَاتِهِ وَتَظُنُ أنَّ الْمَسِيحَ تھا، نہ اُن کی وفات کے بعد اور کیا تو یہ بھی خیال کرتا ہے کہ مَا نَامَ قَط في عُمُرِهِ إِلَّا في وَقْتِ ضَلالة حضرت مسیح علیہ السلام اپنی زندگی میں صرف نصاری کی النّصَارَى وَلَمْ تَذْقُ عَيْنُهُ طَعْمَ التَّوْمِ گمراہی کے وقت ہی سوئے تھے اور آپ کی آنکھوں نے قط إِلَّا عِندَ الرّفع وَكَانَ قَبْلَ الرَّفع رفع کے وقت ہی نیند کا مزہ چکھا تھا اور اس سے قبل وہ ہمیشہ مُسْتَيْقِظًا دَائمًا فَانظُرْ مُنصفا جاگتے رہتے تھے پس تو انصاف سے بتا کیا یہ معنے اس جگہ أَيَسْتَقِيمُ هَذَا الْمَعْلى في هَذَا الْمَوْضِع ٹھیک بیٹھتے ہیں اور کیا ان معنوں سے سینہ کی ٹھنڈک، روح وَيَحْصُلُ مِنْهُ ثَلْجُ الْقَلْبِ وَسَكِينَةُ کا سکون اور دل کا اطمینان حاصل ہو سکتا ہے؟ تجھے معلوم الرُّوحِ والممتانُ الْبَاطِنِ وَأَنتَ تَعْلَمُ ہے کہ یہ معنے عقل سے دور اور بالبداہت غلط ہیں اور تاویل أَنَّه مُسْتَبْعِدُ جِدًّا وَ فَاسِ بِالْبَدَاهَةِ کرنے والوں کی تاویل بھی انہیں درست قرار نہیں دے وَمَا كَانَ أَنْ يُصْلِحَهُ تَأْوِيلُ الْمُؤَوّلِينَ سکتی۔( ترجمه از مرتب) (حمامة البشرى، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۶۳ تا ۲۶۴) وَمَا خَالَفْنَا الْمُكَفِّرِینَ إِلَّا فِي وَفَاةِ اور جن لوگوں نے ہمیں کافر ٹھہرایا ان سے ہم صرف اس عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بات میں ان کے مخالف ہیں کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی فَاغْتَاظُوا غَيْظًا شَدِيدًا، وَمُلِنُوا مِنْهُ وفات کے قائل ہیں، وہ لوگ بہت غضبناک ہوئے اور غصہ سے كَأَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَةٍ يُعِيسى إلى بھر گئے گویا انہیں اس بات پر کچھ ایمان نہیں کہ اے عیسی ! میں إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِوَعْدِ الْوَفَاةِ الَّذِی تجھے وفات دوں گا اور نہ وعدہ وفات پر ایمان ہے جس کی اس قَدْ صُرِحَ فِيْهَا، وَكَانَهُمْ لَا يَعْرِفُونَ آيَةً آیت میں تصریح ہے اور گویا وہ لوگ اس آیت کو بھی پہچانتے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي الَّتِي فِيْهَا إِشَارَةٌ إِلى إِنْجَازِ نہیں جس میں حضرت عیسی کا اقرار ہے کہ تو نے مجھے وفات دی یہ هذَا الْوَعْدِ وَوُقُوعِ الْمَوْتِ وَالْآيَاتُ وی آیت فَلَمَّا تَوَفَّینی ہے جس میں اس وعدہ موت کے پورے بَيْنَةٌ مُنْكَشِفَةٌ، فَلَعَلَّهُمْ فِي شَكٍّ مِن ہونے کی طرف اشارہ ہے جو آیت اِنِّي مُتَوَفِّيكَ میں ہو چکا كِتَابٍ مُّبِينٍ، فَنَبَذُوا كِتَابَ اللهِ وَرَآءَ تھا۔آیات کھلے کھلے ہیں مگر شاید یہ لوگ قرآن پر یقین نہیں رکھتے اور شک میں ہیں اور کتاب اللہ کو انہوں نے ایمان لانے هِمْ بَعْدَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ - 119 نور الحق ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ (۸) کے بعد اپنی پس پشت پھینک دیا ہے۔(ترجمہ اصل کتاب سے )