تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 138

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۸ سورة ال عمران الْأَجْسَاءَ عَلَى الْأَرْضِ فَمن أَيْنَ عَلِمت اجسام کو زمین پر ہی رہنے دیتا ہے پس تو نے یہ کیسے معلوم أن لفظ مُتَوَفِّيكَ مُشْعِر يرفع الجسد؟ کر لیا کہ مُتَوَفيك کا لفظ جسم کو اٹھانے پر دلالت کرتا ہے أَنَّ لَفَظَ وَالْخَلْق يَنَامُونَ كُلُّهُمْ وَلكِن لَّا يَقْبضُ حالانکہ تمام لوگ سوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی اللهُ جِسْم أَحَدٍ مِّنْهُمْ۔۔۔۔۔کے جسم کو قبض نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔وَعَلَى تَقْدِيرِ فَرْضِ هَذَا الْمَعْنَى يَلْزَمُ یہ معنے فرض کر لینے کے بعد ایک اور خرابی لازم آتی فَسَادٌ أَخَرُ، وَهُوَ أَنَّ لَفْظ التوفي في هذه ہے اور وہ یہ کہ مذکورہ آیت میں لفظ تو فی ایسا وعدہ ہے جو الْآيَةِ وَعْدٌ تُحْدَثٌ مِنَ اللهِ تَعَالَى كَمَوَاعِید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئے طور پر پورا ہونے والا ہے ان أُخْرَى الَّتِى ذَكَرَهَا اللهُ فِيْهَا، وَلَوْ كَانَ هذا وعدوں کی طرح جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر الْمَعْلى هُوَ الْحَقُّ فَيَلْزَمُ مِنْهُ أَنْ يَكُونَ فرمایا ہے۔اگر یہ بات حق اور درست ہے تو اس سے یہ نَوْمُ الْمَسِيحِ عِنْدَ الرَّفْعِ أَوَّلَ أَمْرٍ وَرَدَ لازم آتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو رفع کے وقت پہلی عَلَيْهِ فِي عُمُرِهِ، وَيَلْزَمُهُمْ أَنْ يَعْتَقِدُوا أَن دفعہ ہی عمر بھر میں نیند آئی پھر ان لوگوں پر لازم آئے گا عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ لَا يَنَامُ قَبْل کہ وہ یہ اعتقاد رکھیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام رفع سے الرفع قط، فَإِنَّ الْأَمْرَ الَّذِى قَدْ وَقَعَ عَلَيْهِ پہلے ہرگز نہیں سوتے تھے کیونکہ جو امر آپ کی زندگی میں فِي حَيَاتِهِ غَيْرَ مَرَّةٍ كَيْفَ يُمْكِنُ أَنْ کئی بار واقع ہو چکا کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو يَذْكُرَهُ اللهُ في مَوَاعِيدٍ جَدِيدَةٍ مُحْدَثَةٍ ان نئے وقوع پذیر ہونے والے وعدوں میں ذکر فَإِنَّ وَعْدَ الشّينِي يَدُلُّ عَلَى عَدُهِ وُجُودِ فرمائے۔کیونکہ کسی چیز کا وعدہ اس بات پر دلالت کرتا الشَّيْئِ قَبْلَ الْوَعْدِ، وَإِلَّا فَيَلْزَمُ تَحْصِیلُ ہے کہ وہ چیز وعدہ سے پہلے موجود نہیں تھی ورنہ تحصیل حَاصِلٍ، وَهُوَ فِعَل لَّغُوْ لَّا يَلِيقُ بِشَأْنِ اللَّهِ حاصل لازم آئے گی اور یہ ایسا لغو فضل ہے جو اللہ تعالیٰ کی تَعَالَى وَوَجَبٌ أَن يَنزُةَ عَنْهُ وَعْدُ رَبِّ شان کے شایاں نہیں ہے اور ضروری ہے کہ رب العالمین الْعَالَمِيْنَ ثُمَّ لَوْ كَانَ هَذَا الْمَعْلى هُوَ کے وعدے ایسی باتوں سے پاک ہوں پھر اگر یہ معنے صحیح الصَّحِيحُ فَمَا تَقُولُ فِي آيَةِ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ہوں تو آیت : فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ كنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ أَتَظُنُّ أَنَّ کے متعلق تم کیا کہو گے کیا تو خیال کرتا ہے کہ نصاری نے النَّصَارَى التَّخَذُوا الْمَسِيحَ إِلهَا بَعْدَ حضرت مسیح علیہ السلام کو اُن کے سونے کے بعد خدا بنایا