تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 137
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۷ سورة ال عمران يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ بِمَعْنَى إِنِّي مُنِيمُک میں لفظ مُتَوَفِّيكَ کے معنے مُنِيمُک ہیں ( یعنی میں تجھے مَا كَانَ خَطَاءَهُمْ خَطَأً وَاحِدًا، بَلْ جَمَعُوا سلانے والا ہوں ) تو ان کی یہ غلطی ایک غلطی نہیں ہے بلکہ أَنْوَاعَ الْعَثَرَاتِ فِي قَوْلِهِمْ وَتَرَكُوا انہوں نے اپنے اس قول میں اور بھی کئی لغزشیں جمع کر لی ہیں تَفْسِيرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کو چھوڑ دیا وَسَلَّمَ، وَهُوَ خَيْرُ الْبَشَرِ وَكَانَ تَكَلَّمُهُ ہے حالانکہ آپ خیر البشر تھے اور آپ رحمانی روح سے بِالرُّوحِ الرَّحْمَانِي، وَكَانَ قَوْلُهُ خَيْرًا مِنْ گفتگو فرماتے تھے اور آپ کا قول مبارک باقی تمام اقوال أَقْوَالٍ كُلِّهَا ، وَقَدْ أَحَاطَتْ كَلِمَاتُهُ طُرُقَ پر فوقیت رکھتا ہے اور آپ کے کلمات مبارکہ ذوق وجدان ، النَّوْقِ وَ الْوِجْدَانِ وَالْعِلْمِ وَ الْعِرْفَانِ علم ، عرفان اور اس نور پر حاوی ہیں جو آپ کو خدائے رحمان وَالنُّورِ الَّذِي أُعْطِيَ لَهُ مِنَ الرَّحْمٰنِ کی طرف سے دیا گیا تھا نیز ان لوگوں نے حضرت ابن عباس وَتَرَكُوا مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي مَعنی کے اس قول کو بھی ترک کر دیا ہے جو آپ نے مُتَوَفِّيكَ کے مُتَوَفِّيكَ، وَ مَا نَظَرُوا إِلَى الْقُرْآنِ وَ معنے کے بارہ میں فرمایا ہے۔ پھر ان لوگوں نے قرآن شریف طَرِيقِ اسْتِعْمَالِهِ فِي هَذَا اللَّفْظِ وَ اور اس کے توفی کے لفظ کے استعمال کے طریق پر غور نہیں وُرُودِهِ فِيهِ بِمَعْنَى الْإِمَاتَةِ بِالتَّوَاتُرِ کیا اور نہ اس کا خیال کیا کہ یہ لفظ متواتر اور پے در پے وَالتَّتَابِعِ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا وَمَا كَانُوا مِن امانت کے معنے میں ہی قرآن مجید میں آیا ہے پس نہ صرف الْمُهْتَدِينَ۔ ثُمَّ إِذَا فَرَضْنَا أَنَّ التَّوَفَّى وہ خود گمراہ ہوئے بلکہ انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کر دیا يمَعْنَى الْإِنَامَةِ، فَمَا نَرَى أَنْ يَنْفَعَهُمْ هَذَا اور وہ ہدایت پانے والے نہ بنے پھر اگر ہم فرض کر لیں کہ الْمَعْنَى مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فَإِنَّ النَّوْمَ مُرَاد توفی کے معنے سلانے کے ہیں تو ہمارے خیال میں یہ معنے منْ قَبْضِ الرُّوحِ وَتَعَطَّلِ حَوَاشِ بھی انہیں ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتے کیونکہ نیند سے مراد الْجِسْمِ مَعَ بَقَاءِ تَعَلَّقِ بَيْنَ الرُّوحِ دراں حالیکہ جسم اور روح کے درمیان تعلق باقی رہتا ہے وَالْجَسَدِ، فَمِنْ أَيْنَ يَثْبُتُ مِنْ هَذَا أَنَّ اللهَ قبض روح اور جسم کے حواس کا تعطل ہے، اس سے یہ کیسے قَبَضَ جِسْمَ الْمَسِيحِ أَلَا تَنْظُرُ إِلى ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کو سُنَّةِ اللهِ الْقَدِيمَةِ ۔۔۔۔ فَإِنَّهُ يَقْبِضُ قبض کر لیا تھا ؟ کیا تو اللہ تعالیٰ کی اس قدیم سنت کو نہیں دیکھتا الْأَرْوَاحَ فِي حَالَةِ النَّوْمِ وَيَتْرُكُ کہ وہ نیند کی حالت میں صرف ارواح کو قبض کرتا ہے اور