تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 135
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الله سورة ال عمران عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى الله سے مؤخر ہے اور ان وعدوں سے مقدم ہے جو اس آیت کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ مُكْثٍ قَبْلَ غَلَبَةِ ترتیب میں اس جملہ کے بعد ذکر ہوئے ہیں تو لازم آئے گا أَتْبَاعِهِ عَلَى أَعْدَائِهِمْ، وَ هَذَا بَاطِل کہ ہم اقرار کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات أَيْضًا بِزَعْمِ الْقَوْمِ، فَإِنَّهُمْ قَدِ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بلا تاخیر واقع ہوگئی پیشتر اعْتَقَدُوا أَنَّ الْمَسِيحَ لَا يَمُوتُ إِلَّا بَعْدَ اس کے کہ آپ کے متبعین کو ان کے دشمنوں پر غلبہ حاصل هَلَاكِ الْمِلَلِ كُلِهَا فَلَوْ رَجَعْنَا مِنْ ہوتا اور یہ بات مسلمانوں کے خیال کے مطابق باطل ہے هُذِهِ الْأَقْوَالِ كُلِّهَا وَقُلْنَا إِنَّ الْمَسِيحَ کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ مسیح علیہ السلام تمام باطل فرقوں لَا يَمُوتُ إِلَّا بَعْدَ تَكْمِيلِ وَعْدِ الْغَلَبَةِ اور مذہبوں کے مٹنے اور تباہ ہونے کے بعد ہی فوت ہوں الْمُمْتَدَّةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَمَا صَرَحَتْ گے پس اگر ہم ان تمام امور سے رجوع کر لیں اور یہ کہیں کہ ايَةُ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ مسیح علیہ السلام کی وفات اس غلبہ کے وعدے کی تکمیل کے كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ لَلَزِمَنَا أَنْ نُقِرَّ بعد ہو گی جس کا عرصہ قیامت تک ممتد ہے جیسا کہ آیت: بِأَنَّ الْمَسِيحَ لَا يَمُوتُ إِلَّا بَعْدَ يَوْمِ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَإِنَّ الْوَعْدَ قَدِ امْتَدَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ صراحت کر رہی ہے اور یہ بھی ہم پر لازم آتا ہے کہ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُمْكِنُ نُزُولُ الْمَسِيحِ إِلَّا اقرار کریں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات قیامت کے بَعْدَ وُقُوعِهِ عَلَى الْوَجْهِ الْأَتَم بعد ہوگی کیونکہ یہ غلبہ کا وعدہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے اس وَالْأَكْمَلِ، فَمَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعَ قَدَمٍ في وعدہ کے بدرجہ اتم و اکمل پورا ہونے کے بعد ہی آپ آ، کا كِتَابِ اللهِ إِلَّا بَعْدَ يَوْمِ الْحَشْرِ عَلى نزول ممکن ہوگا اس صورت میں ہمیں کتاب اللہ کی رو سے طَرِيقِ فَرْضِ الْمُحَالِ وَلَيْتَ شِعْرِی یوم حشر سے پہلے مسیح کے قدم دھرنے کے لئے کوئی گنجائش نظر أَنَّ أَعْدَاءَنَا يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ إِنَّ لَفَظَ نہیں آتی یہ بات علی سبیل الفرض کہی جارہی ہے اور کاش میں مُتَوَفِّيكَ فِي آيَةِ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ سمجھ سکتا کہ ہمارے مخالف یہ بات اپنے منہ سے کس طرح مُؤَخَّرُ فِي الْحَقِيقَةِ، وَلَيْسَ هَذَا الْمَوْضِعُ نکالتے ہیں کہ اس آیت میں لفظ متوفيك در حقیقت مؤخر مَوْضِعَهُ، وَلَكِنَّهُمْ لَا يُنَبِّئُونَا بِأَن لَّوْ ہے اور موجودہ جگہ اس کی اصل جگہ نہیں لیکن وہ ہمیں یہ نہیں نَرْفَعُ هُذَا اللَّفْظَ مِنْ هَذَا الْمُقَامِ بتا سکتے کہ اگر ہم اس لفظ مُتَوَفِيكَ کو موجودہ جگہ سے ہٹا دیں