تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 134

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۴ سورة ال عمران وَجْهِ الْأَرْضِ اسْمُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ ، آئے گا جس کا نام عیسی بن مریم ہوگا اور اس کی وَفَرَّضُوا تَفْصِيلَ هَذِهِ الْحَقِيقَةِ إِلَى اللهِ تَعَالیٰ تفصیل کو انہوں نے خدا تعالیٰ کے سپرد کیا اور واقع وَمَا دَخَلُوا فِي تَفَاصِيلِهِ قَبْلَ الْوُقُوعِ، وَ ہونے کے پہلے اس کی تفصیل کے پیچھے نہیں پڑے كَذلِكَ كَانَتْ سِيْرَتُهُمْ فِي الْأَنْبَاءِ الْمُسْتَقْبِلَةِ جیسا کہ آئندہ زمانہ کی پیش گوئیوں میں ان کی كَمَا هِيَ سُنَّةُ الصَّالِحِينَ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ عادت تھی اور سب صالحین کی یہی عادت ہے پھر ان خَلْفٌ أَضَاعُوا سُنَّتَهُمْ وَتَرَكُوا سِيرَتَهُمْ کے بعد ایسی ذریت آئی جنہوں نے ان کی عادت وَأَوَّلُوا قَوْلَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ إِلَى مَا اشْتَهَتْ اور سیرت کو ضائع کر دیا اور قال الله قال، الرسول کی أَنْفُسُهُمْ، ثُمَّ أَصَرُوا عَلَيْهِ كَأَنَّهُمْ عَرَفُوا اپنی خواہشوں کے مطابق تاویلیں کر دیں اور پھر ایسا أَسْرَارَ اللهِ يَقِينَا وَكَأَنَّهُمْ كَانُوا مِن اصرار کیا گویا کہ خدائی اسرار کو انہوں نے یقیناً جان الْمُسْتَيْقِنِينَ لیا اور ان کو پورا یقین حاصل ہے ۔ ( ترجمہ از مرتب ) ( حمامة البشری روحانی خزائن جلدی صفحه ۱۹۴ تا ۱۹۸) وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ فِي تَرْتِيبِ هَذِهِ الْآيَةِ اور تو جانتا ہے کہ ترتیب کے لحاظ سے اس آیت كَانَتْ هُذِهِ الْمَوَاعِيدُ كُلُّهَا بَعْدَ وَعْدِ التَّوَفَّى میں جتنے وعدے ہیں وہ توفی کے وعدے کے بعد وَكَانَ وَعْدُ التَّوَفَّى مُقَدَّمًا عَلى كُلِّهَا، وَقَدِ ہیں اور توفی کا وعدہ ان سب سے مقدم ہے اور تمام اتَّفَقَ الْقَوْمُ عَلَى أَنَّهَا وَقَعَتْ بِتَرْتِيبِ يُوجَدُ مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آیت میں فِي الْآيَةِ، فَلَوْ فَرَضْنَا أَنَّ لَفَظَ التَّوَفَّى مُؤَخِّرُ موجود ترتیب کے مطابق ہی وہ وعدے پورے مِنْ لَّفْظِ الرَّفْعِ، لَلزِمَنَا أَنْ نُقِرَّ بِأَنَّ عِيسَی ہوئے ہیں پس اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ لفظ توفی رفع عَلَيْهِ السَّلَامُ قَدْ تُوَفَّى بَعْدَ الرَّفْعِ وَقَبْلَ کے لفظ سے مؤخر ہے تو ہمارے لئے اس بات کا اقرار وُقُوعِ الْمَوَاعِيدِ الْبَاقِيَّةِ، وَهَذَا مِمَّا لَا يَعْتَقِدُ کرنا بھی ضروری ٹھہرے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بِهِ أَحَدٌ مِنَ الْمُخَالِفِينَ وَلَوْ قُلْنَا أَنَّ لَفظ کی وفات رفع کے بعد اور باقی وعدوں کے پورا ہونے التَّوَفَّى مُؤَخَّرٌ مِنْ جُمْلَةِ وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ سے پہلے واقع ہوگئی ہے حالانکہ یہ ایک ایسی بات ہے كَفَرُوا وَمُقَدَّمُ مِنْ وَعْدٍ وَقَعَ فِي تَرْتِيبِ جسے مخالفین میں سے بھی کوئی نہیں مانتا اور اگر ہم یہ کہیں الْآيَةِ بَعْدَهَا ، لَلَزِمَنَا أَنْ نُقِرَّ بِأَنَّ وَفَاةَ عِيسَى که لفظ توفى ، مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا کے جملہ