تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 133
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۳ سورة ال عمران وَكَلَامُهُ كُلُّهُ مُرَتَب كَالْجَوَاهَرَاتِ، وَالتَّكلم جواہرت کی طرح مرتب ہیں اور اس کی شان میں ایسی فِي شَأْنِهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ جَهَالَةٌ عَظِيمَةٌ بات کہنی بڑی جہالت اور بیوقوفی ہے اور ایسے وسوسوں وَسَفَاهَةٌ شَنِيْعَةٌ وَمَا يَقَعُ فِي هَذِهِ میں بجز ایسے شخص کے کوئی بھی نہیں پڑتا کہ جو اس کی الْوَسَاوِسِ إِلَّا الَّذِي نَسِيَ قُدْرَةَ اللهِ تَعَالی و قدرت اور طاقت اور حفظ کو بھلا دے اور حقیر خیال قُوَّتَهُ وَ حَوْلَهُ، وَاحْتَقَرَهُ وَمَا قَدَرَةً حَقّ کرے اور اس کی پوری قدر نہ کرے اور اس کی قَدْرِهِ، وَمَا عَرَفَ شَأْنَ كَلَامِهِ، بَلِ اجْتَرَأَ کلام کی شان سے جاہل ہو اور اس کو شاعروں کے وَالْحَقَ كَلَامَ اللَّهِ بِكَلَامِ الشَّاعِرِينَ کلام سے ملا دے۔ ؟ وَكَيْفَ يَجُوزُ لِأَحَدٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ اور کسی مسلمان کے لئے کیوں کر جائز ہو سکتا ہے کہ يَتَكَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا ، وَيُبَدِّلَ كَلَامَ اللهِ مِنْ وہ ایسی بات منہ پر لاوے اور اللہ کے کلام کو اپنی تِلْقَاءِ نَفْسِهِ، وَيُحَرِّفَهُ عَنْ وَيُحَرِّفَهُ عَنْ مَوْضِعِهِ مِنْ غَيْرِ طرف سے بدلے اور خدا و رسول سے اس کے پاس سَنَدٍ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِهِ : أَلَيْسَتْ لَعْنَةُ اللهِ کوئی سند نہ ہو اور کلمات الہیہ کو ان کے محل سے ادھر عَلَى الْمُحَرَّفِينَ وَلَوْ كَانُوا عَلَى الْحَقِّ فَلِمَ لا ادھر کرے ۔ کیا تحریف کرنے والوں پر خدا کی لعنت يَأْتُونَ بِبُرْهَانٍ عَلَى هَذَا التَّحْرِيفِ مِنْ آيَةٍ نہیں ہے اور اگر وہ حق پر ہیں تو کیوں اس تحریف پر أَوْ حَدِيثٍ أَوْ قَوْلِ صَحَابِي أَوْ رَأْي إِمَامٍ کوئی آیت یا حدیث یا قول صحابی یا قول امام دلیل مُجْتَهِد إِن كَانُوا مِنَ الصَّادِقِينَ وَكَيْفَ کے طور پر پیش نہیں کرتے اگر سچے ہوتے تو ضرور پیش نَقْبَلُ تَحْرِيفَاتِهِمُ الَّتِي لَا دَلِيْلَ عَلَيْهَا مِن کرتے اور ہم کیوں کر ایسی تحریفوں کو قبول کر لیں جن پر الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَلَا نَجِدُهَا إِلَّا كَتَحْرِيفِ قرآن اور حدیث سے کوئی دلیل نہیں اور ہم ان کو الْيَهُودِ مِنْ تَلْبِيْسِ الشَّيَاطِينِ وَأَمَّا بعینہ ان تحریفوں کی مانند پاتے ہیں جو شیطان کے السَّلَفُ الصَّالِحُ فَمَا تَكَلَّمُوا فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ دھوکے سے یہود نے کی تھیں اور سلف صالحین نے اس تَفْصِيلًا، بَلْ آمَنُوا مُجْمِلًا بِأَنَّ الْمَسِيحَ مسئلہ میں مفصل کچھ نہیں کہا بلکہ اجمالی رنگ میں ایمان عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ قَدْ تُوُفِّيَ كَمَا وَرَدَ فِي لاتے تھے کہ مسیح مر گیا ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے الْقُرْآنِ، وَآمَنُوا بِمُجَدِدٍ يَأْتِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ اور اس پر کہ آخری زمانہ میں جبکہ نصارای روئے زمین فِي آخِرِ الزَّمَانِ عِنْدَ غَلَبَةِ النَّصَارَى عَلی پر غالب ہو جاویں گے تو اس اُمت میں سے ایک مجدد