تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 132

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۲ سورة ال عمران مُؤَخَّرًا فِي الْحَقِيقَةِ مِنْ كُلِّ هَذِهِ الْوَاقِعَاتِ يَعْنِي واقعات سے مؤخر تھا یعنی عیسی کے رفع اور مِنْ رَّفْعِ عِيسَى وَتَطْهِيرِهِ مِنَ الْبُهْتَانَاتِ بِبَعْثِ آنحضرت کی بعثت کے ساتھ بہتانوں سے ان کی النَّبِيِّ الْمُصَدِّقِ وَ غَلَبَةِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَهُودِ تطہیر کرنے اور یہود پر مسلمانوں کے غالب ہونے وَجَعَلِ الْيَهُودِ مِنَ السَّافِلِينَ، وَلَكِنَّ اللهَ قَدَّمَ اور ان کے مغلوب ہونے سے مؤخر ہے لیکا ہے لیکن خدا لَفْظَ الْمُتَوَفِّي" عَلَى لَفْظِ " رَافِعُكَ " وَعَلَى لفظ نے نظم کلام کے واسطے مضطر ہو کر اس کو مقدم کر دیا " مُطَهَّرُكَ " وَغَيْرِهَا مَعَ حَزْفِ بَعْضِ الْفِقَرَاتِ ہے اور باوجود اس کے کچھ ضروری فقرے حذف الضُّرُورِيَّةِ رِعَايَةً لِصَفَاءِ نَظْمِ الْكَلَامِ کر دیتے ہیں اور چونکہ رعایت عایت نظم کے لئے مضطر كَالْمُضْطَرِينَ وَكَانَ اللَّفْظُ الْمَذْكُورُ يَعْنِي إِنِّي ہو کر خدا نے لفظ توفی کو مقدم کیا ہے جو دراصل مُتَوَفِّيكَ فِي آخِرِ الْفَاظِ الْآيَةِ، فَوَضَعَهُ اللهُ فِي مؤخر تھا لہٰذا اس تقدم و تاخیر میں خدا معذور ہے أَوَّلِهَا اضْطِرَارًا لِرِعَايَةِ النَّظْمِ الْمُحْكَمِ، کیونکہ اضطرار کی وجہ سے الفاظ غیر عمل میں رکھے وَكَانَ اللهُ فِي هَذَا التَّأْخِيرِ وَالتَّقْدِيمِ مِنَ ہیں اور قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے اور یہ آیت الْمَعْذُورِينَ، فَلِأَجْلِ هَذَا الْإِضْطِرَارِ وَضَعَ کریمہ ان کے خیال میں در حقیقت یوں تھی اے الْأَلْفَاظَ فِي غَيْرِ مَوَاضِعِهَا وَجَعَلَ الْقُرْآنَ عیسیٰ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تجھ کو عِضِينَ وَالْآيَةُ بِزَعْمِهُمْ كَانَتْ فِي الْأَصْلِ عَلَى منکروں کے بہتانوں سے پاک کروں گا اور هذِهِ الصُّورَةِ: يَا عِيسَى إِنِّي رَافِعُكَ إِلَى تیرے متبعین کو مخالفوں پر قیامت تک غلبہ دوں گا وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ پھر آسمان سے تجھے اتاروں گا پھر اس کے بعد تجھے اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وفات دوں گا۔ پس دیکھو کہ کس طرح کلام الہی کو ثُمَّ مُنَزِّلُكَ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ مُتَوَفِّيكَ فَانْظُرُ بدلتے ہیں اور اس کے کلمات کو اپنی اپنی جگہ سے كَيْفَ يُبَدِّلُونَ كَلَامَ اللهِ وَيُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ بناتے ہیں اور اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں مَوَاضِعِهَا، وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ مِنْ بُرْهَانٍ عَلى ہے اپنی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں حالانکہ ان هُذَا إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا أَهْوَاءَهُمْ ، وَمَا كَانَ لَهُمْ کے لئے مناسب نہ تھا کہ قرآن میں کلام کرتے أَنْ يَتَكَلَّمُوا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا خَائِفِينَ وَأَنْتَ لیکن ڈرتے ڈرتے ۔ اور تم جانتے ہو کہ اللہ ایسے تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ مُنَزَّهُ عَنْ هَذِهِ الْاِضْطِرَارَاتِ اضطراروں سے پاک ہے اور اس کے سب کلام