تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 132
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۳۲ w سورة ال عمران مُؤَخّرًا فِي الْحَقِيقَةِ مِنْ كُلِّ هَذِهِ الْوَاقِعَاتِ يَعْنِی واقعات سے مؤخر تھا یعنی عیسی کے رفع اور مِنْ رَّفْعِ عِيسَى وَتَطْهِيرِه مِنَ الْبُهْتَانَاتِ بِبَعْثِ آنحضرت کی بعثت کے ساتھ بہتانوں سے ان کی النّبِي الْمُصَدِقِ وَ غَلَبَةِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الْيَهُودِ تطہیر کرنے اور یہود پر مسلمانوں کے غالب ہونے وَجَعَلِ الْيَهُودِ مِنَ السَّافِلِينَ وَلَكِنَّ اللهَ قَدَّمَ اور ان کے مغلوب ہونے سے مؤخر ہے لیکن خدا لفظ "الْمُتَوَقِّى" على لفظ " رَافِعُكَ " وَعَلَى لفظ نے نظم کلام کے واسطے مضطر ہو کر اس کو مقدم کر دیا "مُطَهَّرُكَ " وَغَيْرِهَا مَعَ حَذْفِ بَعْضِ الْفِقَرَاتِ ہے اور باوجود اس کے کچھ ضروری فقرے حذف الضُّرُورِيَّةِ رِعَايَةً لِصَفَاءِ نَظْمِ الْكَلَامِ کر دیے ہیں اور چونکہ رعایت نظم کے لئے مضطر كَالْمُضْطَرِينَ۔وَكَانَ اللَّفْظُ الْمَذْكُورُ۔يَعْنِي إِنِّي ہو کر خدا نے لفظ توفی کو مقدم کیا ہے جو دراصل مُتَوَفِّيكَ فِي آخِرِ الْفَاظِ الْآيَةِ، فَوَضَعَهُ اللهُ في مؤخر تھا لہذا اس تقدم و تاخیر میں خدا معذور ہے أَولِهَا اضْطِرَارًا لِرِعَايَةِ النَّظْمِ الْمُعْكَم۔کیونکہ الفطرار کی وجہ سے الفاظ غیر محل میں رکھے وَكَانَ اللهُ في هَذَا التَّأْخِيرِ وَالتَّقْدِيمِ مِن ہیں اور قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے اور یہ آیت الْمَعْذُورِينَ، فَلِأَجْلِ هَذَا الْإِضْطِرَارِ وَضَعَ كريم ان کے خیال میں درحقیقت یوں تھی اے الْأَلْفاظ في غَيْرِ مَوَاضِعِهَا وَجَعَلَ الْقُرْآن عیسی میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تجھ کو عِضِينَ وَالْآيَةُ برغيهُمْ كَانَتْ فِي الْأَصْلِ عَلى منکروں کے بہتانوں سے پاک کروں گا اور هذِهِ الصُّورَةِ: يَا عِيسَى إِلى رَافِعُكَ إلى تیرے متبعین کو مخالفوں پر قیامت تک غلبہ دوں گا إِنِّي وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ پھر آسمان سے تجھے اتاروں گا پھر اس کے بعد مجھے اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔وفات دوں گا۔پس دیکھو کہ کس طرح کلام الہی کو ثُمَّ مُنَالُك مِن السَّمَاءِ ثُمَّ مُتَوَفِّيْك فانظر بدلتے ہیں اور اس کے کلمات کو اپنی اپنی جگہ سے كَيْفَ يُبَدِّلُونَ كَلَامَ اللَّهِ وَيُحَزِفُونَ الْكَلِمَ عَنْ بناتے ہیں اور اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں موَاضِعِهَا، وَلَيْسَ عِندَهُمْ مِنْ بُرْهَانٍ عَلى ہے اپنی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں حالانکہ ان هذَا إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا أَهْوَاءَهُمْ، وَمَا كَانَ لَهُمْ کے لئے مناسب نہ تھا کہ قرآن میں کلام کرتے أَن يَتَكَلَّمُوا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا خَائِفِينَ وَأَنْتَ لیکن ڈرتے ڈرتے۔اور تم جانتے ہو کہ اللہ ایسے تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ مُنَزِّهُ عَنْ هَذِهِ الْإِضْطِرَارَاتِ اضطراروں سے پاک ہے اور اس کے سب کلام