تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 130

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام w سورة ال عمران معنی کرنا کہ زندہ آسمان پر حضرت عیسی اٹھائے گئے یہ بھی یہودیوں کی طرح قرآن شریف کی تحریف ہے۔قرآن شریف اور تمام حدیثوں میں تو فی کا لفظ قبض روح کے بارہ میں استعمال پاتا ہے کسی مقام میں ان معنوں پر استعمال نہیں ہوا کہ کوئی شخص مع جسم زندہ آسمان پر اُٹھایا گیا۔ماسوا اس کے ان معنوں سے تو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ قرآن شریف میں عیسی کی موت کا کہیں ذکر نہیں اور اس نے کبھی مرنا ہی نہیں کیونکہ جس جگہ اور جس مقام میں حضرت عیسی کی نسبت توٹی کا لفظ ہوگا وہاں یہی معنی کرنے پڑیں گے کہ مع جسم آسمان پر چلا گیا یا جائے گا پھر موت اس کی کس طرح ثابت ہوگی ؟ (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷، ۱۸) یہ عقیدہ کھلے طور پر قرآن شریف کے مخالف ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ سب لوگ حضرت عیسی کو قبول کر لیں گے کیونکہ اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے : يعنى إِلَى مُتَوَفِيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ یعنی اے عیسی میں تجھے موت دُوں گا اور پھر موت کے بعد مومنوں کی طرح اپنی طرف تجھے اُٹھاؤں گا اور پھر تمام تہمتوں سے تجھے بری کروں گا اور پھر قیامت تک تیرے متبعین کو تیرے مخالفوں پر غالب رکھوں گا اب ظاہر ہے کہ اگر قیامت سے پہلے تمام لوگ حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے تو پھر وہ کون سے مخالف ہیں جو قیامت تک رہیں گے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۶) وَأَمَّا مَا قَالَ سُبْحَانَهُ تعالى: يُعيسى اللہ تعالیٰ نے جو يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إلى مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إلَى فَلَيْسَ مَعْنَاهُ إِلَيَّ فرمایا ہے اس کے معنے جسم مع روح کے اٹھائے رَفْعَ الْجِسْمِ مَعَ الرُّوحِ وَالدَّلِيلُ عَلَيْهِ جانے کے نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں ذِكْرُ التَّوَقِّ قَبْلَ الرَّفْعِ، وَإِنَّ هَذَا الرَّفْعَ توفّى كا ذكر رفع سے پہلے کیا گیا ہے اور یہ رفع بعد موت حَقُ كُلّ مُؤْمِنٍ بَعْدَ الْمَمَاتِ، وَهُوَ ثَابِت ہر مومن کا حق ہے۔یہ بات قرآن کریم اور احادیث اور مِنَ الْقُرْآنِ وَالْأَحَادِيثِ وَالرَّوَايَاتِ وَإِن روایات سے ثابت ہے۔یہودی حضرت عیسی علیہ السلام الْيَهُودَ كَانُوا مُنكِرِينَ يرفع عیسی کے رفع کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ عیسی علیہ السلام کا وَيَقُولُونَ إِنَّ عِيسَى لَا يُرْفَعُ كَمَثَلِ رفع دوسرے مومنوں کی طرح نہیں ہوگا اور نہ وہ زندہ الْمُؤْمِنِينَ وَلا يُخيي وَ ذَالِكَ بِأَنهُمْ كَانُوا کیے جائیں گے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو کا فر گردانتے