تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 125
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۵ سورة ال عمران وَرَافِعُكَ إلى تمام جھگڑے کا فیصلہ کرتی ہے کیونکہ ہمارے مخالف یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع زندگی کی حالت میں ہوا اور خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ موت کے بعد رفع ہوا۔پس افسوس ہے اُس قوم پر کہ جو نص صریح کتاب اللہ کے مخالف دعویٰ کرتے ہیں اور قرآن شریف اور تمام پہلی کتابیں اور تمام حدیثیں بیان کر رہی ہیں کہ موت کے بعد وہی رفع ہوتا ہے جس کو رفع روحانی کہتے ہیں جو ہر ایک مومن کے لئے بعد موت ضروری ہے۔بعض متعصب اس جگہ لاجواب ہو کر کہتے ہیں کہ آیت کو اس طرح پڑھنا چاہیے کہ نعیسى إلى رَافِعُكَ إِلَى وَمُتَوَفِّيكَ أو يا خدا تعالیٰ سے یہ غلطی ہو گئی کہ اس نے یہ مُتَوَفِّيكَ كو رَافِعُكَ پر مقدم کر دیا اور یہ فرمایا کہ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى حالانکہ کہنا یہ تھا که يُعِيسَى إِلى رَافِعُكَ اِلَى وَمُتَوَفِّيكَ ہائے افسوس! تعصب کس قدر سخت بلا ہے کہ اس کی حمایت کے لئے کتاب اللہ کی تحریف کرتے ہیں۔یہ عمل تحریف وہی پلید عمل ہے جس سے یہودی لعنتی کہلائے اور ان کی صورتیں مسخ کی گئیں۔اب یہ لوگ قرآن شریف کی تحریف پر آمادہ ہیں۔اور اگر یہ وعدہ نہ ہوتا کہ اِنا نَحْنُ w نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر :۱۰) تو ان لوگوں سے یہ امید تھی کہ بجائے آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلَى کے اس طرح قرآن شریف میں لکھ دیتے کہ یعنى إِنِّي رَافِعُكَ إِلَى وَمُتَوَفِّيكَ مگر اس طرح کی تحریف بھی غیر ممکن تھی۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں چار وعدے فرمائے ہیں۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے: يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إلى يَوْمِ الْقِيمَةِ یہ چار وعدے ہیں جن پر نمبر لگا دیئے گئے اور جیسا کہ احادیث صحیحہ اور خود قرآن شریف سے ثابت ہے وعدہ وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا جو وعدہ رفع کے بعد تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پورا ہو گیا کیونکہ آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام کے دامن کو ان بیجا تہمتوں سے پاک کیا جو یہود اور نصاری نے اُن پر لگائی تھیں۔اسی طرح یہ چوتھا وعدہ یعنی وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ اسلام کے غلبہ اور شوکت سے پورا ہو گیا۔پس اگر متوفيك کے لفظ کو متا خر کیا جائے اور لفظ رَافِعُكَ الى مقدم کیا جائے۔جیسا کہ ہمارے مخالف چاہتے ہیں تو اس صورت میں فقرہ رَافِعُكَ اِلَى فقرہ مُطَهَّرُكَ سے پہلے نہیں آسکتا کیونکہ فقرہ مُطَهَّرُكَ کا وعدہ پورا ہو چکا ہے اور بموجب قول ہمارے مخالفوں کے متوفيك کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا اور اس طرح یہ فقرہ متوفيك وعده وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِیمَةِ کے پہلے بھی نہیں آ سکتا کیونکہ وہ وعدہ بھی پورا ہو چکا ہے اور قیامت کے