تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 120
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ال۔ سورة ال عمران وہ ترتیب جو واقعات خارجیہ نے ثابت کر دی ہے ہاتھ سے جاتی رہے گی اور کسی کا اختیار نہیں ہے کہ قرآنی ترتیب کو بغیر کسی قوی دستاویز کے اُٹھا دے کیونکہ ایسا کرنا گویا یہودیوں کے قدم پر قدم رکھنا ہے۔ یہ تو سیچ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ حرف واؤ کے ساتھ ہمیشہ ترتیب کا لحاظ واجب ہو۔ لیکن اس میں کیا شک ہے کہ خدا تعالیٰ اس آیت میں فقرہ مُتَوَفِّيكَ کو پہلے لایا ہے اور پھر فقرہ رافِعُكَ کو بعد اس کے اور پھر اس کے بعد فقره مُطَهَّرُكَ بیان کیا گیا ہے۔ اور بہر حال ان الفاظ میں ایک ترتیب ہے جس کو خدائے علیم و حکیم نے اپنی ابلغ واضح کلام میں اختیار کیا ہے اور ہمارا اختیار نہیں ہے کہ ہم بلا وجہ اس ترتیب کو اُٹھا دیں۔ اور اگر قرآن شریف کے اور مقامات یعنی بعض اور آیات میں مفسرین نے ترتیب موجودہ قرآن شریف کے برخلاف بیان کیا ہے تو یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ اُنہوں نے خود ایسا کیا ہے یا وہ ایسا کرنے کے مجاز تھے بلکہ بعض نصوص حدیثیہ نے اسی طرح ان کی شرح کی تھی یا قرآن شریف کے دوسرے مواضع کے قرائن واضحہ نے اس بات کے ماننے کے لئے انہیں مجبور کر دیا تھا کہ ظاہری ترتیب نظر انداز کی جائے ۔ لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ کا ابلغ اور افصح کلام ترتیب سے خالی نہیں ہوتا اگر اتفاقاً کسی عبارت میں ظاہری ترتیب نہ ہو تو بلحاظ معنی ضرور کوئی ترتیب مخفی ہوتی ہے مگر بہر حال ظاہری ترتیب مقدم ہوتی ہے اور بغیر وجود کسی نہایت قوی قرینہ کے اس ظاہری ترتیب کو چھوڑ دینا سراسر الحاد اور خیانت اور تحریف ہوتی ہے۔ یہی تو وہ خصلت تھی جس کے اختیار کرنے سے یہودی خدا کی نظر میں لعنتی ٹھہرے۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۵۲ تا ۴۵۶ حاشیه ) یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ وہی زمانہ ہے جس میں دشمنوں کی طرف سے ہر ایک قسم کی بد زبانی کمال کو پہنچ گئی ہے اور بد گوئی اور عیب گیری اور افترا پردازی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب اس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور ساتھ اُس کے مسلمانوں کی اندرونی حالت بھی نہایت خطرناک ہوگئی ہے۔ صد با بدعات اور انواع اقسام کے شرک اور الحاد اور انکار ظہور میں آ رہے ہیں۔ اس لئے قطعی یقینی طور پر اب یہ وہی زمانہ ہے جس میں پیشگوئی مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا کے مطابق عظیم الشان مصلح پیدا ہو، سو الحمد للہ کہ وہ میں ہوں ۔ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۵۳ حاشیه ) اگر یہ کہو کہ ترتیب کو تو ہم مانتے ہیں مگر توفی کے معنے موت نہیں مانتے تو اس کے ہماری طرف سے دو جواب ہیں ؟ (۱) اوّل یہ کہ خود صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس سے یہ معنے مروی ہیں کہ مُتَوَفِّيكَ :