تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 117
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران سے پاک کروں گا جو تیرے پر اُن لوگوں نے لگائے جنہوں نے تیری راستبازی کو قبول نہ کیا۔اب ظاہر ہے کہ اس جگہ رفع جسمانی کی کوئی بحث نہ تھی اور یہودیوں کے عقیدہ میں یہ ہرگز داخل نہیں کہ جس کا رفع جسمانی نہ ہو وہ نبی یا مومن نہیں ہوتا۔پس اس بے ہودہ قصے کے چھیڑنے کی کیا حاجت تھی۔خدا تعالیٰ کا کلام لغو سے پاک ہے۔وہ تو اُن مقدمات کا فیصلہ کرتا ہے جن کا فیصلہ کرنا ضروری ہے۔یہود نالائق نعوذ باللہ ! حضرت مسیح کو کافر اور کا ذب اور مفتری ٹھہراتے تھے اور کہتے تھے کہ موسیٰ اور تمام راستبازوں کی طرح اُن کو روحانی رفع نصیب نہیں ہوا اور کسی حد تک نصاری بھی اُن کی ہاں میں ہاں ملانے لگے تھے۔سو خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ دونوں فریق جھوٹے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام بے شک مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے ہیں جیسا کہ اور راستباز اٹھائے گئے۔یہ بعینہ ایسا ہی فیصلہ ہے جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ عیسی اور اُس کی ماں مس شیطان سے پاک ہیں۔جاہل مولویوں نے اس کے یہ معنے کر لئے کہ بجز حضرت عیسیٰ اور اُن کی ماں کے اور کوئی نبی ہو یا رسول ہو مس شیطان سے پاک نہیں یعنی معصوم نہیں اور آیت: إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن ( الحجر : (۴۳) کو بھول گئے اور نیز آیت سلمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ ولد ( مریم : ۱۲ ) کو پس پشت ڈال دیا۔اور بات صرف اتنی تھی کہ اس حدیث میں بھی یہودیوں کا ذب اور دفع اعتراض منظور تھا۔چونکہ وہ لوگ طرح طرح کے نا گفتنی بہتان حضرت مریم اور حضرت عیسی پر لگاتے تھے اس لئے خدا کے پاک رسول نے گواہی دی کہ یہودیوں میں سے مس شیطان سے کوئی پاک نہ تھا اگر پاک تھے تو صرف حضرت عیسی اور اُن کی والدہ تھی۔نعوذ باللہ ! اس حدیث کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ ایک حضرت عیسیٰ اور اُن کی والدہ ہی معصوم ہیں اور اُن کے سوا کوئی نبی ہو یا رسول ہو مس شیطان سے معصوم نہیں ہے۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۵۵،۳۵۴) مخالفین کی حالت پر رونا آتا ہے وہ نہیں سوچتے کہ اگر اس آیت: إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَی سے ایک پاک موت کا بیان کرنا غرض نہیں تھا اور بجائے ملعون ہونے کے روحانی رفع کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا تو اس قصے کو بیان کرنے کی کون سی ضرورت تھی اور جسمانی رفع کے لئے کون سی دینی ضرورت پیش آئی تھی ؟ افسوس! صاف اور سیدھی بات کو ناحق بگاڑتے ہیں۔بات تو صرف اتنی تھی کہ یہودی حضرت عیسی کو ملعون ٹھہرا کر اُن کے رفع روحانی سے منکر ہو گئے تھے۔اب رَافِعُكَ اِلی سے اس بات کا ظاہر کرنا مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ ملعون نہیں ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف اُن کا رفع ہو گیا۔اور توفی کے لفظ سے جس کے معنے صحیح بخاری میں مارنا