تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 116
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 117 سورة ال عمران یہودی جھوٹے ہیں۔اور حضرت عیسی علیہ السلام کا اور سچے نبیوں کی طرح رفع الی اللہ ہو گیا اور یہی وجہ ہے جو اس آیت میں یہ لفظ نہیں فرمائے گئے کہ رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ بلکہ یہ فرمایا گیا کہ رَافِعُكَ إلى تا صریح طور پر ہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ رفع روحانی ہے نہ جسمانی کیونکہ خدا کی جناب جس کی طرف راستبازوں کا رفع ہوتا ہے روحانی ہے نہ جسمانی اور خدا کی طرف روح چڑھتے ہیں نہ کہ جسم۔اور خدا تعالیٰ نے جو اس آیت میں توٹی کو پہلے رکھا اور رفع کو بعد تو اسی واسطے یہ ترتیب اختیار کی کہ تاہر ایک کو معلوم ہو کہ یہ وہ رفع ہے کہ جو راستبازوں کے لئے موت کے بعد ہوا کرتا ہے۔ہمیں نہیں چاہیے کہ یہودیوں کی طرح تحریف کر کے یہ کہیں کہ دراصل توفی کا لفظ بعد میں ہے اور رفع کا لفظ پہلے کیونکہ بغیر کسی محکم اور قطعی دلیل کے محض ظنون اور اوہام کی بنا پر قرآن کو الٹ پلٹ دینا ان لوگوں کا کام ہے جن کی روحیں یہودیوں کی روحوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔پھر جس حالت میں آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : ۱۱۸)۔میں بیان فرمایا گیا ہے کہ عیسائیوں کا تمام بگاڑ اور گمراہی حضرت عیسی کی وفات کے بعد ہوئی ہے تو اب سوچنا چاہیے کہ حضرت عیسی کو اب تک زندہ ماننے میں یہ اقرار بھی کرنا پڑتا ہے کہ اب تک عیسائی بھی گمراہ نہیں ہوئے اور یہ ایک ایسا خیال ہے جس سے ایمان جانے کا نہایت مخطرہ ہے۔(کتاب البریۃ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۳ تا ۲۵) اس آیت میں یہود کے اس قول کا رد ہے کہ وہ کہتے تھے کہ عیسی مصلوب ہو گیا اس لئے ملعون ہے اور خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا اور عیسائی کہتے تھے کہ تین دن لعنتی رہ کر پھر رفع ہوا اور اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ بعد وفات بلا توقف خدا تعالیٰ کی طرف عیسی کا رفع روحانی ہوا اور خدا تعالیٰ نے اس جگہ رافعك الى السماء نہیں کہا بلکہ رافعک الی فرمایا تا رفع جسمانی کا شبہ نہ گزرے کیونکہ جو خدا کی طرف جاتا ہے وہ روح سے جاتا ہے نہ جسم سے ارجعي إلى ربّكِ ( الفجر : ۲۹) اس کی نظیر ہے غرض اس طرح پر یہ جھگڑا فیصلہ پایا مگر ہمارے نادان مخالف جو رفع جسمانی کے قائل ہیں وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جسمانی رفع امر متنازع فیہ نہ تھا اور اگر اس بے تعلق امر کو بفرض محال قبول کر لیں تو پھر یہ سوال ہوگا کہ جو جسمانی رفع کے متعلق یہود اور نصاریٰ میں جھگڑا تھا اس کا فیصلہ قرآن کی کن آیات میں بیان فرمایا گیا ہے آخر لوٹ کر اسی طرف آنا پڑے گا کہ وہ آیات یہی ہیں۔(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۱۵۴) اے عیسی ! میں تجھے وفات دوں گا اور وفات کے بعد تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تجھے اُن الزاموں