تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 115

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۵ سورة ال عمران پیلاطوس کی جورو کو یہ خبر دی تھی کہ اگر یسوع مر گیا تو یادرکھ کہ تم پر و بال آئے گا مگر پیلاطوس پر کوئی وبال نہ آیا اور یہ بھی یسوع کے زندہ رہنے کی ایک نشانی ہے کہ اس کی ہڈیاں صلیب کے وقت نہیں توڑی گئیں اور صلیب پر سے اتارنے کے بعد چھیدنے سے خون بھی نکلا اور اس نے حواریوں کو صلیب کے بعد اپنے زخم دکھلائے اور ظاہر ہے کہ نئی زندگی کے ساتھ زخموں کا ہونا ممکن نہ تھا۔پس اس سے ثابت ہوا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا اس لئے لعنتی بھی نہیں ہوا اور بلاشبہ اس نے پاک وفات پائی اور خدا کے تمام پاک رسولوں کی طرح موت کے بعد وہ بھی خدا کی طرف اٹھایا گیا اور بموجب وعده إلى مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ الی اس کا خدا کی طرف رفع ہوا۔اگر وہ صلیب پر مرتا تو اپنے قول سے خود جھوٹا ٹھہرتا کیونکہ اس صورت میں یونس کے ساتھ اس کی کچھ بھی مشابہت نہ ہوتی۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۵۴،۳۵۳) شیخ محی الدین ابن العربی کا بھی یہی مذہب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی عیسی کے رفع کے یہ معنی ہیں کہ ہے۔جب عالم سفلی سے اس کی روح خدا ہوئی تو عالم بالا سے اس کا اتصال ہو گیا۔پھر (اپنی تفسیر کے ) صفحہ ۱۷۸ میں لکھتے ہیں کہ رفع کے یہ معنی ہیں کہ عیسی کی روح اس کے قبض کرنے کے بعد روحوں کے آسمان میں پہنچائی گئی۔فَتَدبر ! (کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۲، ۲۳ حاشیه ) افسوس کہ ہمارے کج فہم علماء پر کہاں تک غباوت اور بلادت وارد ہو گئی ہے کہ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ قرآن نے اگر اس آیت میں کہ اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى ، رفع جسمانی کا ذکر کیا ہے تو اس ذکر کا کیا موقع تھا اور کون سا جھگڑا اس بارے میں یہود اور نصاری کا تھا؟ تمام جھگڑا تو یہی تھا کہ صلیب کی وجہ سے یہود کو بہانہ ہاتھ آ گیا تھا کہ نعوذ باللہ ! یہ شخص یعنی حضرت عیسی علیہ السلام ملعون ہے یعنی اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا اور جب رفع نہ ہوا تو لعنتی ہو نا لا زم آیا کیونکہ رفع الی اللہ کی ضد لعنت ہے۔اور یہ ایک ایسا انکار تھا جس سے حضرت عیسی علیہ السلام اپنے نبوت کے دعوے میں جھوٹے مظہر تے تھے کیونکہ توریت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص مصلوب ہو اس کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا یعنی مرنے کے بعد راستبازوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف اس کی روح اٹھائی نہیں جاتی یعنی ایسا شخص ہر گز نجات نہیں پاتا۔پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے سچے نبی کے دامن کو اس تہمت سے پاک کرے اس لئے اس نے قرآن میں یہ ذکر کیا : وما قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ( النساء : ۱۵۸)۔اور یہ فرما یا لعيسى إني مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى - تا معلوم ہو کہ