تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 110

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 11۔سورة ال عمران الصَّحَابَةِ أَوْ حَدِيدٍ مِنْ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، في روايت يا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پیش کر تَفْسِيرِ لَفْظِ التَّوَى بِغَيْرِ مَعْنَى الْإِمَانَةِ سکے جس میں لفظ توفی کے معنے مارنے کے سوا کچھ اور بیان وَلَا يَقْدِرُونَ عَلَيْهِ أَبَدًا وَلَوْ مَاتُوا ہوئے ہوں اور مخالفین ہرگز ہرگز ایسا کرنے پر قادر نہیں ہوں بِالْحَسْرَةِ فَأَى دَلِيلِ أَكْبَرُ من ذلك لو کان کے اگر چہ حسرت سے مر ہی جائیں پس اگر کسی کے دل میں فِي قَلْبٍ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ الْخَشْيَةِ ذرا بھر بھی خشیت اللہ پائی جاتی ہو۔تو اس کے لئے اس انجام آنظم ، روحانی خزائن جلدا ا صفحہ (۱۳۳) سے بڑھ کر اور کون سی دلیل ہوگی۔( ترجمہ از مرتب ) وَأَمَّا لَفْظ التولي الذي يُفَتِّشُونَه في لفظ تولّی جسے وہ عربی لغت میں تلاش کرتے ہیں اس اللَّسَانِ الْعَرَبِيَّةِ، فَاعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُسْتَعْمَلُ کے بارے میں یادر ہے کہ سوائے مارنے کے اس زبان حَقِيقَةٌ إِلَّا لِلإِمَاتَةِ في هَذِهِ اللَّهْجَةِ میں کسی اور معنے میں از روئے حقیقت وہ استعمال نہیں ہوتا۔سَيَّمَا إِذَا كَانَ فَاعِلُهُ الله وَالْمَفْعُولُ خصوصاً اس وقت جب اس کا فاعل اللہ اور مفعول کوئی انسان رَجُلًا أَوْ مِنَ النِّسْوَةِ، فَلَا يَأْتِي إِلَّا يَمَعْنَى مرد یا عورت ہو۔پس اس صورت میں سوائے قبض روح قَبْضِ الرُّوحِ وَالْإِمَاتَةِ وَمَا تَری خلاف کے اور موت دئے جانے کے اور کسی معنے میں استعمال نہیں ذَالِك فِي كُتب اللُّغَةِ وَالْأَدَبِيَّةِ وَ مَنْ ہوتا اور کتب لغت اور ادب میں اس کے خلاف ہرگز کوئی فَتَش لُغَاتَ الْعَرَبِ، وَأَنطى إِلَيْهَا معنے نہیں پاؤ گے اور جو کوئی بھی لغت عربی کی تفتیش کرے اور رِكَابَ القَلْبِ، لَن تَجِدَ هَذَا اللفظ في جستجو کی سواریوں کو اس غرض کے لئے لاغر کرے وہ بھی اس مِثْلِ هَذِهِ الْمَقَامَاتِ إِلَّا مَعْنَى الْإِمَاتَةِ لفظ کو ایسے مقامات میں صرف مارنے اور اللہ کی طرف سے وَالْإِهْلَاكِ مِنَ اللهِ رَبِّ الْكَائِنَاتِ وَقَدْ ہلاک کئے جانے کے معنے میں پائے گا اور یہ لفظ قرآن کریم ذكر هذا اللّفظ مِرَارًا فِي الْقُرْآنِ، وَوَضَعَهُ میں بارہا بیان ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس لفظ کو امانت کی اللهُ فِي مَوَاضِعِ الْإِمَاتَةِ وَأَقَامَهُ مَقَامَهَا جگہ پر ہی رکھا ہے اور موت کے لفظ کا قائم مقام بنایا ہے اور في الْبَيَانِ وَالسّر في ذلك أَن لفظ التَّوفى اس میں بھید یہ ہے کہ لفظ توفی متوفی کے وفات پا جانے يَقْتَدِى وُجُودَ شَيْءٍ بَعْدَ الْمَمَاتِ، فَهَذَا کے بعد بھی اس کے باقی رہنے کا مقتضی ہے اور اس میں ان رَةٌ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْتَقِدُونَ بِبَقَاءِ الْأَزْوَاج لوگوں کی تردید ہے جو موت کے بعد بقائے ارواح کے بَعْدَ الْوَفَاةِ فَإِنَّ لَفَظَ التَّوَقِّ يُؤْخَذُ مِن قائل نہیں ہیں کیونکہ لفظ تو فی استیفا سے ماخوذ ہے اور اس