تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 109
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+9 سورة ال عمران قرآن میں رفع الی اللہ کا ذکر ہے نہ رفع الی السماء کا پھر جبکہ اللہ جل شانہ نے یہ فرمایا ہے کہ: يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إلى تو اس سے قطعی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ رفع موت کے بعد ہے کیونکہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھالوں گا، سو اس میں کیا کلام ہے کہ w خدا کے نیک بندے وفات کے بعد خدا کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔سو وفات کے بعد نیک بندوں کا رفع ہونا سنت اللہ میں داخل ہے مگر وفات کے بعد جسم کا اٹھایا جانا سنت اللہ میں داخل نہیں اور یہ کہنا کہ توفی کے معنی اس جگہ سونا ہے سراسر الحاد ہے کیونکہ صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ مُتَوَفِّيكَ مبيتك اور اس کی تائید میں صاحب بخاری اسی محل میں ایک حدیث بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لایا ہے پس جو معنی توفی کے ابن عباس اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام متنازعہ فیہ میں ثابت ہو چکے اس کے برخلاف کوئی اور معنی کرنا یہی ملحدانہ طریق ہے۔مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام متنازعہ فیہ میں یہی معنی کئے پس بڑی بے ایمانی ہے جو نبی کریم کے معنوں کو ترک کر دیا جائے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۸) وَأَمَّا نَحْنُ فَمَا تَقُولُ في مَعْنَى مگر ہم تو لفظ توفی کے معنے کے بارے وہی کچھ کہتے التَّوَى إِلَّا مَا قَالَ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ، وَأَصْحَابُهُ ہیں جو ہمارے رسول خیر الخلق صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ مَّنْبَعِ النُّبُوَّةِ کے ان صحابہ نے جو چشمہ نبوت سے علم دیئے گئے تھے وَمَا تَقْبَلُ خِلَافَ ذَالِكَ رَأَى أَحَدٍ وَلَا فرمایا ہے اور اس کے خلاف کسی کی رائے اور کسی کے قول قَوْلَ قَائِلٍ إِلَّا مَا وَافَقَ قَوْلَ الله وَقَوْلَ کو قبول نہیں کرتے۔سوائے اس قول کے جو اللہ تعالی اور خَيْرِ الْمُرْسَلِينَ۔وَإِذَا حَصْحَصَ الْحَقُّ في رسول اكرم صلى اللہ علیہ وسلم کے قول کے موافق ہو۔مَعْنَى التَّوَى مِن لِسَانِ خَاتَمِ النَّبِيِّين، خصوصاً جب کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان وثَبَتَ أَنَّ التَّوَل هُوَ الإماتة والافنا مبارک سے توفی کے معنے کے بارہ میں حق ظاہر ہو گیا ہے لَا الرَّفْعُ وَالْإِسْتِيْفَاءُ، كَمَا هُوَ زَعَمَ اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ توفی کے معنے مارنے اور فنا المخالفين۔کرنے کے ہیں نہ کہ اٹھانے یا پورا پورا لینے کے جیسا کہ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۳۰ ۱۳۱۰) مخالفین کا خیال ہے۔( ترجمہ از مرتب) لَا يُمْكِنُ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْتِي بِأَثَرٍ مِّن کسی شخص کے لئے یہ ممکن نہیں کہ صحابہ کرام کی کوئی