تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 108
۱۰۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ال عمران اور ایک آیت قرآن شریف کی جس کے معنے خدا تعالیٰ کے نزدیک زندہ اٹھا لینا ہو اسی کو اپنی طرف منسوب کر کے اس کے معنے مار دینا کر دیوے یہ تو خیانت اور تحریف ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس گندی کارروائی کو منسوب کرنا میرے نزدیک اول درجہ کا فسق بلکہ کفر کے قریب قریب ہے۔افسوس ! کہ حضرت عیسی کی زندگی ثابت کرنے کے لئے ان خیانت پیشہ مولویوں کی کہاں تک نوبت پہنچی ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی محرف القرآن ٹھہرایا بجز اس کے کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْخَالِدِينَ الكاذبين یہ بات نہایت سیدھی اور صاف تھی کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کو اسی طرح اپنی ذات کی نسبت منسوب کر لیا جیسا کہ وہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب تھی اور منسوب کرنے کے وقت یہ نہ فرمایا کہ اس آیت کو جب حضرت عیسی کی طرف منسوب کریں تو اس کے اور معنے ہوں گے اور جب میری طرف منسوب ہو تو اس کے اور معنے ہیں۔حالانکہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت میں کوئی معنوی تغییر و تبدیل ہوتی تو رفع فتنہ کے لئے یہ عین فرض تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس تشبیہ وتمثیل کے موقعہ پر فرما دیتے کہ میرے اس بیان سے کہیں یوں نہ سمجھ لینا کہ جس طرح میں قیامت کے دن فلما توفیتنی کہہ کر جناب الہی میں ظاہر کروں گا کہ بگڑنے والے لوگ میری وفات کے بعد بگڑے۔اسی طرح حضرت مسیح بھی فلما توفيتنى کہہ کر یہی کہیں گے کہ میری وفات کے بعد میری امت کے لوگ بگڑے کیونکہ فلما توفیتنی سے میں تو اپنا وفات پا نا مرا در کھتا ہوں لیکن مسیح کی زبان سے جب فَلَمَّا تَوَفِّيتَنى نکلے گا تو اس سے وفات پانا مراد نہیں ہوگا بلکہ زندہ اٹھایا جانا مراد ہوگا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرق کر کے نہیں دکھلایا جس سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موقعوں پر ایک ہی معنے مراد لئے ہیں۔پس اب ذرا آنکھ کھول کر دیکھ لینا چاہیئے کہ جبکہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے لفظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسی دونوں شریک ہیں گویا یہ آیت دونوں کے حق میں وارد ہے تو اس آیت کے خواہ کوئی معنے کر و دونوں اس میں شریک ہوں گے۔سو اگر تم یہ کہو کہ اس جگہ توفی کے معنے زندہ آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہے تو تمہیں اقرار کرنا پڑے گا کہ اس زندہ اٹھائے جانے میں حضرت عیسی کی کچھ خصوصیت نہیں بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں کیونکہ آیت میں دونوں کی مساوی شراکت ہے۔لیکن یہ تو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ وفات پاگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کی قبر موجود ہے تو پھر اس سے تو بہر حال ماننا پڑا کہ حضرت عیسی بھی وفات پاگئے ہیں۔(اتمام الحجة، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۹۶،۲۹۵)