تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 106
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+4 سورة ال عمران وَ أَمَّا لَفْظُ التَّوَفِّى الَّذِي يُوجَدُ فِي مگر توفی کا لفظ جو قرآن میں حضرت مسیح اور دوسروں الْقُرْآنِ فِي حَقِّ الْمَسِيحِ وَغَيْرِهِ مِنْ بَنِی کے حق میں پایا جاتا ہے سواس میں بغیر معنے مارنے کے ادَمَ فَلَا سَبِيلَ فِيهِ إِلى تَأْوِيْلٍ أُخْرَى بِغَيْرِ اور کوئی تاویل نہیں ہو سکتی اور یہ معنے مارنے کے ہم نے الْإِمَانَةِ، وَ أَخَذْنَا مَعْنَاهُ مِنَ النَّبِي وَمِن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے بزرگ صحابہ سے لیے أَجَلِ الصَّحَابَةِ لَا مِنْ عِندِ أَنْفُسِنَا وَأَنْتَ ہیں۔یہ نہیں کہ اپنی طرف سے گھڑے ہیں اور تو جانتا تَعْلَمُ أَنَّ الْإِمَاتَةَ أَمْرُ ثَابِتٌ دَائِم دَاخِل ہے کہ مارنا ایک امر ثابت دائم الوقوع اور خدا تعالیٰ کی فِي سُنَنِ اللَّهِ الْقَدِيمَةِ، وَمَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا قدیم سنتوں میں داخل ہے اور کوئی نبی ایسا نہیں جو فوت تُوُفِّى وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِ عِیسَی نہ ہوا ہو اور حضرت عیسی علیہ السلام سے پہلے جو نبی آئے الرُّسُلُ فَإِذَا تَعَارَضَ لَفْظ التَّوَفِّى وَلَفظ وہ فوت ہو چکے ہیں اور جبکہ لفظ نزول اور لفظ توفی میں النُّزُولِ فَإِنْ سَلَّمَنَا وَفَرَضْنَا صِيحَةَ معارضہ واقع ہوا پس اگر ہم حدیث کی صحت کو قبول کر الْحَدِيثِ فَلا بُدَّ لَنَا أَنْ تُوَوّلَ لَفَظَ اللُّزُولِ لیں تا ہم ہمارے لیے ضروری ہے کہ نزول کے لفظ کی فَإِنَّهُ لَيْسَ مَوضُوعِ لِزُولِ رَجُلٍ فِینَ تاویل کریں کیونکہ وہ دراصل آسمان سے اترنے کے السَّمَاءِ ، بَلْ وُضِعَ لِلْزُولِ مُسَافِرٍ من معنوں کے لیے موضوع نہیں ہے بلکہ وہ تو مسافروں کے نزول کے لئے وضع کیا گیا ہے۔(ترجمہ اصل کتاب سے ) أَرْضِ بِأَرْضِ نور الحق حصہ اول روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۷۰،۶۹) انظُرُوا فِي الرَّسَالَةِ الْقَوْزِ الْكَبِيرِ رساله الفوز الکبیر وفتح الخبير جوحکیم الملت سید ولی اللہ وَفَتْحِ الْخَبِيرِ الَّتِي هِيَ تَفْسِيرُ الْقُرْآنِ شاہ صاحب دہلوی کی تصنیف ہے اور جس میں احادیث بِأَقْوَالِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ وَهِيَ مِن وَلِي الله نبویہ کے ذریعہ تفسیر قرآن بیان ہوئی ہے اسے دیکھیں! الدهلوي حَكِيمِ الْمِلَّةِ، قَالَ مُتَوَفِّيكَ اس میں انہوں نے مُتَوَفِّيكَ كے معنے مُبيتُك كئے مُمِيْتُكَ وَلَمْ يَقُلْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلِمَةِ، وَلَمْ ہیں اور اس کے خلاف کوئی اور بات نہیں کہی اور نہ اس يَذْكُرُ مَعْنَى سِوَاهَا اتَّبَاعًا لِمَعْلٰی خَرَجَ کے سوا اور کوئی معنے نقل کئے ہیں اور ایسا کرنے میں انہوں نے ان معنے کا تتبع کیا ہے جو نور نبوت سے ظاہر من مشكاة النبوة (إثْمَامُ الْحَجَّةِ ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۷۹) ہوئے ہیں۔(ترجمہ از مرتب)