تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 103

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۳ سورة ال عمران صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرِ ( القمر : ۵۶ ) ہوتے ہیں۔ یعنی اگر ان کا کوئی خاص مکان ہے تو یہی مکان ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کا مکان جو حسب استعداد ان کو ملتا ہے، اب جب کہ قرآن کریم میں رَافِعُكَ اتی ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ میں تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں ۔ اگر جسمانی طور پر رفع مراد لیا جائے تو سخت اشکال پیش آتا ہے کیونکہ احادیث صحیحہ بخاری سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح معہ اپنے خالہ زاد بھائی کے دوسرے آسمان پر ہیں۔ تو کیا خدا تعالیٰ دوسرے آسمان میں بیٹھا ہوا ہے تا دوسرے آسمان میں ہونا رَافِعُكَ إِلَى کا مصداق ہو جائے ۔ بلکہ اس جگہ روحانی رفع مراد ہے جس کا حسب مراتب ایک خاص آسمان سے تعلق ہے۔ بخاری میں حدیث معراج کی پڑھوا اور غور سے دیکھو ۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ ان تمام وجوہات کی رو سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عیسی وفات پا گئے ہیں بلاشبہ آیت انی مُتَوَفِّيكَ حضرت عیسی کی وفات پر قطعی الدلالت ہے ۔ عموم محاورہ قرآن شریف کا اسی پر دلالت کرتا ہے۔ بخاری میں حضرت ابن عباس کی روایت سے مُتَوَفِّيكَ کے معنے مُميتك لکھے ہیں اور بخاری نے کسی صحابی کی روایت سے کوئی دوسرے مُتَوَفِّيكَ کے معنے ہرگز اپنی صحیح میں نہیں لکھے اور نہ مسلم نے لکھے ہیں۔ بلکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فاعل ہونے اور انسان کے مفعول ہونے کی حالت میں بجر قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں ہو سکتے ۔ اسی بنا پر میں نے ہزار روپیہ کا اشتہار بھی دیا ہے۔ اب اگر یہ آیت مسیح ابن مریم کی وفات پر قطعی الدلالت نہیں تو دلائل مذکورہ بالا اور نیز دلائل مفصلہ مبسوطه از اله اوہام کا جواب دینا چاہئے تا آپ کو ہزار روپیہ بھی مل جائے اور اپنے بھائیوں میں علمی شہرت بھی حاصل الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۱۴ تا ۲۱۶) ہو جائے ۔ دوسری دلیل مسیح ابن مریم کی وفات پر خود جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جس کو امام بخاری اپنی کتاب التفسیر میں اسی غرض سے لایا ہے کہ تا یہ ظاہر کرے کہ لَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے معنے لَمَّا آمینی ہے اور نیز اسی غرض سے اس موقعہ پر ابن عباس کی روایت سے مُتَوَفِّيكَ : مُمِيتُكَ کی بھی روایت لایا ہے تا ظاہر کرے کہ لَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے وہی معنی ہیں جو اِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے معنی ابن عباس نے ظاہر فرمائے ہیں۔ اس مقام پر بخاری کو غور سے دیکھ کر ادنی درجہ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ توفیتنی کے معنی امینی ہیں یعنی تو نے مجھے مار دیا۔ اس میں تو کچھ شبہ نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کا مزار موجود ہے۔ پھر جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی لفظ فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِی کا حدیث بخاری میں اپنے لئے اختیار