تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 102
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۲ سورة ال عمران یہودیوں کی طرح تحریف ہے جن پر بوجہ تحریف کے لعنت ہو چکی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں اس آیت کو اس طرح پر زیر و زبر کرنا پڑے گا ۔ يَا عِيسَى إِنِّي رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ثُمَّ مُنَزِّلُكَ إِلَى الْأَرْضِ وَ مُتَوَفِّيكَ - اب فرمائیے! کیا اس تحریف پر کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل مل سکتی ہے؟ یہودی بھی تو ایسے ہی کام کرتے تھے کہ اپنی رائے سے اپنی تفسیروں میں بعض آیات کے معنے کرنے کے وقت بعض الفاظ کو مقدم اور بعض کو مؤخر کر دیتے تھے جن کی نسبت قرآن مجید میں یہ آیت موجود ہے کہ : يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ موَاضِعه (المائدة : ۱۴ ) ان کی تحریف ہمیشہ لفظی نہیں تھی بلکہ معنوی بھی تھی ۔ سوایسی تحریفوں سے ہر یک مسلمان کو ڈرنا چاہئے ۔ اگر کسی حدیث صحیح میں ایسی تحریف کی اجازت ہے تو بسم اللہ وہ دکھلائیے! غرض آیت : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ میں اگر قرآن کریم کا عموم محاورہ ملحوظ رکھا جائے اور آیت کو تحریف سے بچایا جائے تو پھر موت کے بعد اور دوسرے معنے کیا نکل سکتے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آیت میں رَافِعُكَ إِلَيَّ وارد ہے رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاء وارد نہیں۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ روح کوئی مکانی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے تعلقات مجہول الکنہ ہوتے ہیں ۔ مرنے کے بعد ایک تعلق روح کا قبر کے ساتھ بھی ہوتا در کشف قبور کے وقت ارباب مکاشفات پر وہ تعلق ظاہر ہوتا ہے کہ صاحب قبور اپنی اپنی قبروں میں بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلکہ ان سے صاحب کشف کے مخاطبات و مکالمات بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ یہ بات احادیث صحیحہ سے بھی بخوبی ثابت ہے۔ صَلوةٌ فِي الْقَبْرِ کی حدیث مشہور ہے اور احادیث سے ثابت ہے کہ مردے جوتی کی آواز بھی سن لیتے ہیں اور السّلام علیکم کا جواب دیتے ہیں، باوجود اس کے ایک تعلق ان کا آسمان سے بھی ہوتا ہے اور اپنے نفسی نقطہ کے مکان پر ان کا تمثل مشاہدہ میں آتا ہے اور ان کا رفع مختلف درجات سے ہوتا ہے بعض پہلے آسمان تک رہ جاتے ہیں بعض دوسرے تک بعض تیسرے تک لیکن موت کے بعد بعد رفع روح بھی ضرور ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث صحیح اور آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف : ۴۱) صریح اشارہ کر رہی ہے۔ لیکن ان کا آسمان پر ہونا یا قبروں میں ہونا ایک مجہول الکنہ امر ہے۔ عنصری خا کی جسم تو ان کے ساتھ نہیں ہوتا کہ خاکی اجسام کی طرح ایک خاص اور حیز اور مکان میں ان کا پایا جانا ضروری ہو۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے رَافِعُكَ إِلی فرمایا رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ نہیں کہا۔ کیونکہ جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں وہ خاص طور پر کسی مکان کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے بلکہ فِي مَقْعَدِ ہے اور 1: