تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 100
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۰ سورة ال عمران ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر سلف اور خلف کا کسی ایک بات پر اجماع ہوتا تو تفسیروں کے لکھنے والے متفرق قولوں کو نہ لکھتے لیکن کون سی ایسی تفسیر ہے جو اس بارہ میں اقوال متفرقہ سے خالی ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ مسیح نیند کی حالت میں اُٹھایا گیا اور کبھی کہتے ہیں کہ وہ مر گیا اور اس کی روح اٹھائی گئی اور کبھی قرآن شریف کی غلطی نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آیت : إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى مِیں دراصل مُتَوَفِّيكَ بعد میں ہونا چاہیئے اور رافِعُكَ اِلَی اس سے پہلے ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ان کا اجماع ایک خاص شق پر ہوتا تو اپنی تفسیروں میں مختلف اقوال کیوں جمع کرتے ؟ اور جب ایک خاص بات پر یقین ہی نہیں تو پھر اجماع کہاں؟ اور یہ اعتراض کہ تیرہ سو برس کے بعد یہ بات تمہیں کو معلوم ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت یہ قول نیا تو نہیں پہلے راوی اس کے تو ابن عباس ہی تھے لیکن اب خدائے تعالیٰ نے اس عاجز پر اس قول کی حقیقت ظاہر کر دی اور دوسرے اقوال کا بطلان ثابت کر دیا تا قولی طور پر اپنے ایک عاجز بندہ کی اس طرح پر ایک کرامت دکھاوے اور تا عقلمند لوگ سمجھ جاویں کہ یہ رہبری خاص خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے کیونکہ اگر یہ معمولی فہم اور عقل کا کام ہوتا تو دوسرے لوگ بھی اس صداقت کو مع اس کے اُن سب دلائل کے جو ان رسالوں میں درج ہو چکے ہیں بیان کر سکتے ۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۴۵) دو گواہوں کے ذریعہ سے پھانسی مل جاتی ہے مگر یہاں اس قدر شواہد موجود ہیں اور وہ بدستور ا نکار کرتے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے : يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَی اور پھر حضرت مسیح کا اپنا اقراراسی قرآن مجید میں موجود ہے : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمُ (المائدة : ۱۱۸) اور تَوَفي کے معنے موت بھی قرآن مجید ہی سے ثابت ہے کیونکہ یہی لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی آیا ہے جیسا کہ فرمایا : وَ إِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ ( يونس : ۴۷) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کہا ہے جس کے معنے موت ہی ہیں اور ایسا ہی حضرت یوسف اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہی لفظ آیا ہے پھر ایسی صورت میں اس کے کوئی اور معنے کیوں کر ہو سکتے ہیں ؟ یہ بڑی زبردست شہادت مسیح کی وفات پر ہے۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۶ صفحه ۴) رافِعُكَ اِلی میں جو رفع کا وعدہ دیا گیا تھا یہ وہی وعدہ ہے جو آیت بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ( النسا : ۱۵۹) میں پورا کیا گیا اب آپ وعدہ کی آیت پر نظر ڈال کر دیکھئے کہ اس سے پہلے کون ( سے ) لفظ موجود ہیں تو فی الفور آپ کو پ کو نظر آ جائے گا کہ اس سے پہلے اِنِّي مُتَوَفِّيكَ ہے اب ان دونوں آیتوں کے ملانے سے جن میں