تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 99
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۹ سورة ال عمران کی نسبت آیا ہے اس کے معنی پورا لینے کے ہیں یعنی جسم اور روح کو بہ ہیئت کذائی زندہ ہی اٹھا لینا اور وجود مرکب جسم اور روح میں سے کوئی حصہ متروک نہ چھوڑنا۔بلکہ سب کو بحیثیت کذائی اپنے قبضہ میں زندہ اور صحیح سلامت لے لینا۔سو اسی معنی سے انکار کر کے یہ شرعلی اشتہار ہے۔ایسا ہی محض نفسانیت اور عدم واقفیت کی راہ سے مولوی محمد حسین صاحب نے اللہ جال کے لفظ کی نسبت جو بخاری اور مسلم میں جابجا دجال معہود کا ایک نام ٹھہرایا گیا ہے، یہ دعوی کر دیا ہے کہ الدجال ، وقال معہود کا خاص طور پر نام نہیں بلکہ ان کتابوں میں یہ لفظ دوسرے دجالوں کے لئے بھی مستعمل ہے اور اس دعویٰ کے وقت اپنی حدیث دانی کا بھی ایک لمبا چوڑا دعویٰ کیا ہے۔سو اس وسیع معنی الدجال سے انکار کر کے اور یہ دعوی کر کے کہ یہ لفظ الدجال کا صرف دجال معہود کے لئے آیا ہے اور بطور علم کے اس کے لئے مقرر ہو گیا ہے۔یہ شرطی اشتہار جاری کیا گیا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب اور اُن کے ہم خیال علماء نے لفظ توفی اور الرجال کی نسبت اپنے دعوی متذکرہ بالا کو بپایہ ثبوت پہنچادیا تو وہ ہزار روپیہ لینے کے مستحق ٹھہریں گے اور نیز عام طور پر یہ عاجز یہ اقرار بھی چند اخباروں میں شائع کر دے گا کہ در حقیقت مولوی محمد حسین صاحب اور اُن کے ہم خیال فاضل اور واقعی طور پر محدث اور مفسر اور رموز اور دقائق قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے سمجھنے والے ہیں۔اگر ثابت نہ کر سکے تو پھر یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ لوگ دقائق و حقائق بلکہ سطحی معنوں قرآن اور حدیث کے سمجھنے سے بھی قاصر اور سراسری اور پلید ہیں اور در پردہ اللہ اور رسول کے دشمن ہیں کہ محض الحاد کی راہ سے واقعی اور حقیقی معنوں کو ترک کر کے اپنے گھر کے ایک نئے معنے گھڑتے ہیں۔ایسا ہی اگر کوئی یہ ثابت کر دکھاوے کہ قرآن کریم کی وہ آیتیں اور احادیث جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کوئی مردہ دنیا میں واپس نہیں آئے گا قطعیۃ الدلالت نہیں اور نیز بجائے لفظ موت اور امانت کے جو متعد دالمعنی ہے اور نیند اور بے ہوشی اور کفر اور ضلالت اور قریب الموت ہونے کے معنوں میں بھی آیا ہے، تونی کا لفظ کہیں دکھاوے مثلا یہ کہ توَفَّاهُ اللهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ۔تو ایسے شخص کو بھی بلا توقف ہزار روپیہ نقد دیا جائے (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۲ تا ۶۰۵) گا۔سوال اگر مسیح ابن مریم در حقیقت فوت ہو گیا ہے تو پھر کیا یہ بات جو تیرہ سو برس سے آج تک مشہور۔چلی آتی ہے کہ مسیح زندہ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا آج غلط ثابت ہوگئی ؟ اما الجواب۔پس واضح ہو کہ یہ بالکل افتراء ہے کہ تیرہ سو برس سے بالا جماع یہی مانا گیا ہے کہ مسیح جسم کے