تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 95
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۵ سورة ال عمران ہی اٹھالیا۔ یہ کیسا سخت جہالت سے بھرا ہوا خیال ہے جو صریح اور بدیہی طور پر نصوص بینہ قرآن کریم کے مخالف ہے۔ قرآن کریم نے نہ ایک بار نہ دوبار بلکہ پچیس بار فرمادیا کہ توفی کے لفظ سے صرف قبض روح مراد ہے جسم سے کچھ غرض نہیں۔ پھر اگر اب بھی کوئی نہ مانے تو اس کو قرآن کریم سے کیا غرض ؟ اس کو تو صاف یہ کہنا چاہیئے کہ میں اپنے چند موہومی بزرگوں کی لکیر کو کسی حالت میں چھوڑ نا نہیں چاہتا۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۹۰ تا ۳۹۲) خدائے تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ کوئی شخص میری طرف بغیر مرنے کے آ نہیں سکتا۔ لیکن کچھ شک نہیں کہ مسیح اس کی طرف اُٹھایا گیا سو وہ ضرور مر گیا۔ خدائے تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں اس کو اني مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ الى سے پکارا ہے۔ سولفظ متوفی جن عام معنوں سے تمام قرآن اور حدیثوں میں مستعمل ہے وہ یہی ہے کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو معطل چھوڑ دینا۔ یہ بڑے تعصب کی بات ہے کہ تمام جہان کے لئے تو توفی کے یہی معنے روح قبض کرنے کے ہوں لیکن مسیح ابن مریم کے لئے جسم قبض کرنے کے معنے لئے جاویں۔ کیا ہم خاص عیسی کے لئے کوئی نئی لغت بنا سکتے ہیں جو کبھی اللہ اور رسول کے کلام میں مستعمل نہیں ہوئی اور نہ عرب کے شعراء اور زبان دان کبھی اس کو استعمال میں لائے۔ پھر جس حالت میں توفی کے یہی شائع متعارفہ معنے ہیں کہ روح قبض کی جائے خواہ بطور ناقص یا بطور تام ۔ تو پھر رفع سے رفع جسد کیوں مراد لیا جاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ جس چیز پر قبضہ کیا جائے گا رفع بھی اُسی کا ہو گا۔ نہ یہ کہ قبض تو روح کا ہو اور جسم کا رفع کیا جائے ۔ غرض برخلاف اس متبادر اور مسلسل معنوں کے جو قرآن شریف سے توفی کے لفظ کی نسبت اوّل سے آخر تک سمجھے جاتے ہیں ایک نئے معنے اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدائے تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچاوے اگر یہ کہا جاوے کہ توفی کے معنے تفسیروں میں کئی طور سے کئے گئے۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ مختلف اور متضاد اقوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے نہیں لئے گئے ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ بیان جو چشمہ وحی سے نکلا ہے اس میں اختلاف اور تناقض راہ پا سکتا بلکہ وہ مفسرین کے صرف اپنے اپنے بیانات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کبھی اُن کا کسی خاص معنے پر اجماع نہیں ہوا۔ اگر ان میں سے کسی کو وہ بصیرت دی جاتی جو اس عاجز کو دی گئی تو ضرور اسی ایک بات پر ان کا اجماع ہو جاتا لیکن خدائے تعالیٰ نے اس قطعی اور یقینی علم سے اُن کو محروم رکھاتا اپنے ایک بندہ کو کامل طور پر یہ علم دے کر آدم صفی اللہ کی طرح اس کی علمی فضیلت کا ایک نشان ظاہر کرے ۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۰۲،۵۰۱)