تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 90
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۰ سورة ال عمران مُتَوَفِّيكَ میں توفی کے معنے وفات دینے کے ہیں اور بعد اس کے جو رافِعُكَ اِلی واقع ہے وہ بقرینہ صریحہ وفات کے روح کے رفع پر دلالت کر رہا ہے تو انہیں یہ فکر پڑی کہ یہ صریح ہماری رائے کے مخالف ہے اس لئے انہوں نے گویا اپنے تئیں نظم فرقانی کا مصلح قرار دے کر یا اپنے لئے استادی کا منصب تجویز کر کے یہ اصلاح کی کہ اس جگہ رَافِعُكَ مقدم اور اِنِّي مُتَوَفِّيكَ مؤخر ہے۔ مگر ناظرین جانتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کے ابلغ واضح کلام میں یہ کسی قدر بیجا اور اس کلام کی کسر شان کا موجب ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۶ تا ۲۷۷) بعض علماء نہایت سادگی سے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ انی مُتَوَفِّيكَ کے آگے جو رَافِعُكَ اور بَلْ رفَعَهُ اللهِ إِلَيْهِ (النساء : ۱۵۹) قرآن کریم میں آیا ہے اس سے زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ اگر یہ معنے سچ نہیں تو پھر بجز مسیح کے اور کسی کے حق میں رافعک کا لفظ کیوں نہیں آیا ؟ مگر میں اسی رسالہ ازالہ اوہام میں اِن تمام وہموں کا مفصل جواب لکھ چکا ہوں کہ رفع سے مراد روح کا عزت کے ساتھ اُٹھائے جانا ہے۔ جیسا کہ وفات کے بعد بموجب نص قرآن اور حدیث صحیح کے ہر یک مؤمن کی روح عزت کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور مسیح کے رفع کا جو اس جگہ ذکر کیا گیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیح کو دعوت حق میں قریباً نا کامی رہی اور یہودیوں نے خیال کیا کہ یہ کا ذب ہے کیونکہ ضرور تھا کہ سچے مسیح سے پہلے ایلیا آسمان سے نازل ہو سو انہوں نے اس سے انکار کیا کہ مسیح کا اور نبیوں کی طرح عزت کے ساتھ خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہو بلکہ اس کو نعوذ باللہ العنتی قراردیا اور لعنتی اس کو کہتے ہیں جس کو عزت کے ساتھ رفع نصیب نہ ہو۔ سو خدائے تعالیٰ کو منظور تھا کہ یہ الزام مسیح کے سر پر سے اُٹھاوے۔سواؤل اس نے اس بنیاد کو باطل ٹھہرایا جس بنیاد پر حضرت مسیح کا لعنتی ہونا نابکار یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے اپنے دلوں میں سمجھ لیا تھا اور پھر بعد اس کے بتصریح یہ بھی ذکر کر دیا کہ مسیح نعوذ باللہ ملعون نہیں جو رفع سے روکا گیا ہے بلکہ عزت کے ساتھ اس کا رفع ہوا ہے۔ چونکہ مسیح ایک بے کس کی طرح دنیا میں چند روزہ زندگی بسر کر کے چلا گیا اور یہودیوں نے اس کی ذلت کے لئے بہت ساغلو کیا۔ اُس کی والدہ پر نا جائز تہمتیں لگائیں اور اس کو ملعون ٹھہرایا اور راستبازوں کی طرح اُس کے رفع سے انکار کیا اور نہ صرف یہودیوں نے بلکہ عیسائی بھی مؤخر الذکر خیال میں مبتلا ہو گئے اور کمینگی کی راہ سے اپنی نجات کا یہ حیلہ نکالا کہ ایک راستباز کو ملعون ٹھہر اویں اور یہ خیال نہ کیا کہ اگر مسیح کے ملعون ہونے پر ہی نجات موقوف ہے اور تبھی نجات ملتی ہے کہ مسیح جیسے ایک راستباز