تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 82
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۲ سورة البقرة نرا بدیوں سے بچنا کوئی کمال نہیں ہماری جماعت کو چاہئے کہ اسی پر بس نہ کرے نہیں بلکہ انہیں دونو کمال حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہئے جس کے لئے مجاہدہ اور دُعا سے کام لیں یعنی بدیوں سے بچیں اور نیکیاں کریں۔ ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ خدا کو سادہ نہ سمجھ لے کہ وہ مکر و فریب میں آ جائے گا۔ جو شخص سفلہ طبع ہو کر خدا تعالیٰ کو دھو کہ دینا چاہتا ہے اور نیکی اور راست بازی کی چادر کے نیچے فریب کرتا ہے وہ یادر کھے کہ خدا تعالیٰ اسے اور بھی رسوا کرے گا ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا ایسے ہی لوگوں کے لئے فرمایا ہے۔ نفاق اور ریا کاری کی زندگی لعنتی زندگی ہے یہ چھپ نہیں سکتی ۔ آخر ظاہر ہو کر رہتی ہے اور پھر سخت ذلیل کرتی ہے۔ خدا تعالی کسی چیز کو چھپاتا نہیں نہ نیکی کو نہ بدی کو۔ سچے نکو کار اپنی نیکیوں کو چھپاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ انہیں ظاہر کر دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب حکم ہوا کہ تو پیغمبر ہو کر فرعون کے پاس جا تو اُنہوں نے عذر ہی کیا اس میں ستر یہ تھا کہ جو لوگ خدا کے لئے پورا اخلاص رکھتے ہیں وہ نمود اور ریا سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔ سچے اخلاص کی یہی نشانی ہے کہ کبھی خیال نہ آوے کہ دنیا ہمیں کیا کہتی ہے۔ جو شخص اپنے دل میں اس امر کا ذرا بھی شائبہ رکھتا ہے وہ بھی شرک کرتا ہے۔ (الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۵ مورخه ۷ ارجولائی ۱۹۰۶ صفحه ۳) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَّا إِنَّهُمُ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ ) الله اور جب ان کو کہا جائے کہ تم زمین میں فساد مت کرو اور کفر اور شرک اور بد عقیدگی کومت پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ہی راستہ ٹھیک ہے اور ہم مفسد نہیں ہیں بلکہ مصلح اور ریفارمر ہیں۔ خبردار رہو! یہی لوگ مفسد ہیں جو زمین پر فساد کر رہے ہیں۔ براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۰۴ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) وَ إِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْ مِنْ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ الَّا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لا يَعْلَمُونَ (۱۴) اور جب اُن کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں۔ تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ہی ایمان لاویں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں؟ خبردار ہو! وہی بے وقوف ہیں مگر جانتے نہیں۔ (براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۰۷ حاشیه در حاشیہ نمبر (۳) وَ إِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَ إِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ