تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 80
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٠٧ سورة البقرة حرکت نا قصہ وہ ہے جو روح القدس کی تحریک سے عقل اور فہم تو کسی قدر تیز ہو جاتا ہے مگر باعث عدم سلامت استعداد کے وہ رو بحق نہیں ہو سکتا بلکہ مصداق اس آیت کا ہو جاتا ہے کہ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا یعنی عقل اور فہم کے جنبش میں آنے سے پچھلی حالت اُس شخص کی پہلی حالت سے بدتر ہو جاتی ہے جیسا کہ تمام نبیوں کے وقت میں یہی ہوتا رہا کہ جب اُن کے نزول کے ساتھ ملائک کا نزول ہوا تو ملائکہ کی اندرونی تحریک سے ہر یک طبیعت عام طور پر جنبش میں آگئی تب جو لوگ راستی کے فرزند تھے وہ اُن راستبازوں کی طرف کھنچے چلے آئے اور جو شرارت اور شیطان کی ذریت تھے وہ اس تحریک سے خواب غفلت سے جاگ تو اُٹھے اور دینیات کی طرف متوجہ بھی ہو گئے لیکن بباعث نقصان استعداد حق کی طرف رُخ نہ کر سکے سوفعل ملائک کا جو ربانی مصلح کے ساتھ اُترتے ہیں ہر یک انسان پر ہوتا ہے لیکن اس فعل کا باران که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روید در شوره بوم و خس نیکوں پر نیک اثر اور بدوں پر بداثر پڑتا ہے۔ مختلف طور کے اثر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اور جیسا کہ ہم ابھی اوپر بیان کر چکے ہیں یہ آیت کریمہ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا اى (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۵۵ تا ۱۵۷) ان کے دلوں میں مرض تھی خدا تعالیٰ نے اس مرض کو زیادہ کیا یعنی امتحان میں ڈال کر اس کی حقیقت ظاہر کردی۔ جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۲۳۴) جیسا کہ خدائے کریم بے نیاز ہے اس نے اپنے برگزیدوں میں بھی بے نیازی کی صفت رکھ دی ہے۔ سو وہ خدا کی طرح سخت بے نیاز ہوتے ہیں اور جب تک کوئی پوری خاکساری اور اخلاص کے ساتھ اُن کے رحم کے لئے ایک تحریک پیدا نہ کرے وہ قوت اُن کی جوش نہیں مارتی اور عجیب تریہ کہ وہ لوگ تمام دنیا سے زیادہ تر رحم کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ مگر اُس کی تحریک اُن کے اختیار میں نہیں ہوتی گو وہ بار ہا چاہتے بھی ہیں کہ وہ قوت ظہور میں آوے مگر بجز ارادہ الہیہ کے ظاہر نہیں ہوتی ۔ بالخصوص وہ منکروں اور منافقوں اور شست اعتقاد لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح اُن کو سمجھتے ہیں اور وہ بے نیازی ان کی ایک ایسی شان رکھتی ہے جیسا کہ ایک معشوق نہایت خوبصورت برقع میں اپنا چہرہ چھپائے رکھے۔ اور اسی بے نیازی کا ایک شعبہ یہ ہے کہ جب کوئی شریر انسان اُن پر بدظنی کرے تو بسا اوقات بے نیازی کے جوش سے اُس بدظنی کو اور بھی بڑھا دیتے ہیں کیونکہ تخلق بأخلاق اللہ رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :