تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 73
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۳ سورة البقرة ہیں اور ایسا ہی اور کل قومی کی تعدیل کرنا ہے۔ ایسا ہی جو لوگ انتقام ، غضب یا نکاح کو ہر حال میں برا جانتے ا۔ وہ بھی صحیفہ قدرت قدرت کے مخالف ہیں اور قومی انسانی کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ سچا مذہب وہی ہے، جو انسانی قوی کا مرتی ہو نہ کہ اُن کا استیصال کرے۔ رجولیت یا غضب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فطرت انسانی میں رکھے گئے ہیں اُن کو چھوڑ نا خدا کا مقابلہ کرنا ہے۔ جیسے تارک اللہ نیا ہونا یا راہب بن جانا یہ تمام حق العباد کو تلف کرنے والے ہیں ۔ اگر یہ امر ایسا ہی ہوتا تو گویا اُس خدا پر اعتراض ہے جس نے یہ قومی ہم میں پیدا کئے ۔ سوالی تعلیمیں جو انجیل میں ہیں اور جن سے قومی کا استیصال لازم آتا ہے ضلالت تک پہنچاتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو اس کی تعدیل کا حکم دیتا ہے ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۴۷، ۴۸) تمام نیکیوں اور راست بازیوں کا بڑا بھاری ذریعہ منجمله دیگر اسباب اور وسائل کے آخرت پر ایمان بھی ہے اور جب انسان آخرت اور اس کی باتوں کو قصہ اور داستان سمجھے تو سمجھ لو کہ وہ رد ہو گیا اور دونوں جہان سے گیا گزرا ہوا۔ اس لئے کہ آخرت کا ڈر بھی تو انسان کو خائف اور ترساں بنا کر اُس کو معرفت کے سچے چشمہ کی طرف کشاں کشاں لے آتا ہے اور سچی معرفت بغیر حقیقی خشیت اور خدا ترسی کے حاصل نہیں ہو سکتی ہے۔ پس یا د رکھو کہ آخرت کے متعلق وساوس کا پیدا ہونا ایمان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے اور خاتمہ بالخیر میں فتور آجاتا ہے جس قدر ابرار، اختیار اور راست باز انسان دنیا میں ہو گزرے ہیں جو رات کو اُٹھ کر قیام اور سجدہ ہی میں صبح کر دیتے تھے کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ وہ جسمانی قوتیں بہت رکھتے تھے اور بڑے بڑے قوی ہیکل جوان اور تنومند پہلوان تھے ! نہیں !! یاد رکھو اور خوب یا د رکھو کہ جسمانی قوت اور توانائی سے وہ کام ہرگز نہیں ہو سکتے جو روحانی قوت اور طاقت کر سکتی ہے۔ بہت سے انسان آپ لوگوں نے دیکھے ہوں گے جو تین چار بار دن میں کھاتے ہیں اور خوب لذیذ اور مقوی اغذیہ پلاؤ وغیرہ کھاتے ہیں مگر اُس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ صبح تک خراٹے مارتے رہتے ہیں اور نیند اُن پر غلبہ رکھتی ہے اور یہاں تک نیند اور سستی کے مغلوب ہو جاتے ہیں کہ اُن کو عشاء کی نماز بھی دو بھر اور مشکل عظیم معلوم دیتی ہے چہ جائیکہ وہ تہجد گزار ہوں ۔ - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۶۴ ) ہم کو اُس (خدا) نے قرآن اور حدیث کے ذریعہ خبر دی ہے کہ ایک زمانہ اور بھی آنے والا ہے جبکہ خدا