تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 70

سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام میں ہوتا ہے۔متقی نفس امارہ کی حالت سے نکل کر آتا ہے اور لوامہ کے نیچے ہوتا ہے اسی لئے متقی کی شان میں آیا ہے کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں گویا اس میں بھی ایک قسم کی لڑائی ہی کی حالت ہوتی ہے وساوس اور اوہام آ آ کر حیران کرتے ہیں مگر وہ گھبراتا نہیں اور یہ وساوس اُس کو در ماندہ نہیں کر سکتے۔وہ بار بار خدا تعالیٰ کی استعانت چاہتا ہے اور خدا کے حضور چلاتا اور روتا ہے یہاں تک کہ غالب آجاتا ہے ایسا ہی مال کے خرچ کرنے میں بھی شیطان اس کو روکتا ہے اور اسراف اور انفاق فی سبیل اللہ کو یکساں دکھاتا ہے حالانکہ ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اسراف کرنے والا اپنے مال کو ضائع کرتا ہے مگر فی سبیل اللہ خرچ کرنے والا اُس کو پھر پاتا ہے اور خرچ سے زیادہ پاتا ہے اس لئے ہی مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ فرمایا ہے۔احکام جلد ۵ نمبر ۳۰ مورخه ۱۷ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۲) دولت مند اور متمول لوگ دین کی خدمت اچھی طرح کر سکتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے ممَّا رَزَقْنَهُمْ يُنفِقُونَ متقیوں کی صفت کا ایک جز و قرار دیا ہے۔یہاں مال کی کوئی خصوصیت نہیں ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے کسی کو دیا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔مقصود اس سے یہ ہے کہ انسان اپنے بنی نوع کا ہمدرد اور معاون بنے۔اللہ تعالیٰ کی شریعت کا انحصار دو ہی باتوں پر ہے۔تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ۔پس ما رَزَقُلهُمْ يُنفِقُونَ میں شفقت علی خلق اللہ کی تعلیم ہے۔دینی خدمات کے لئے متمول لوگوں کو بڑے بڑے موقع مل جاتے ہیں۔ایک دفعہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روپیہ کی ضرورت بتلائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر کا کل اثاث البيت لے کر حاضر ہو گئے آپ نے پوچھا۔ابو بکر ! گھر میں کیا چھوڑ آئے تو جواب میں کہا اللہ اور رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نصف لے آئے۔آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پوچھا عمر ! گھر میں کیا چھوڑ آئے تو جواب دیا کہ نصف۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر و عمر کے فعلوں میں جو فرق ہے وہی ان کے مراتب میں فرق ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ راگست ۱۹۰۰ صفحه ۴،۳) متقیوں کی صفات میں سے ہے کہ وہ بالغیب ایمان لاتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں اور ممَّا رَزَقُنُهُمْ يُنفِقُونَ یعنی علم ، مال اور دوسرے قوائے ظاہری اور باطنی جو کچھ دیا ہے۔سب کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف ، اور کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے خدا نے بڑے بڑے وعدہ انعام کے کئے ہیں۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۴ء صفحه ۸) پھر مشکفی کے لئے ایک اور منزل آتی ہے وہ مِنَا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ہے یعنی جو کچھ ان کو ہم نے دیا ہے اس