تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 69

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۹ سورة البقرة نہ رہا۔نمازا اپنی زبان میں نہیں پڑھنی چاہئے۔خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں مگر اصل زبان کو ہر گز نہیں چھوڑنا چاہئے۔عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا پھل پایا کچھ بھی باقی احکام جلد ۶ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۲ صفحه ۸) پانچواں وسیلہ اصل مقصود کے پانے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجاہدہ ٹھہرایا ہے۔یعنی اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اور اپنی عقل کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے ذریعہ سے اس کو ڈھونڈا جائے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے : جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمُ (القوية: (٤) ، وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (التوبة: ٣١) وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت : ۱) یعنی اپنے مالوں اور اپنی جانوں اور اپنے نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرو اور جو کچھ ہم نے عقل اور علم اور فہم اور ہنر وغیرہ تم کو دیا ہے وہ سب کچھ خدا کی راہ میں لگاؤ۔جو لوگ ہماری راہ میں ہر ایک طور سے کوشش بجالاتے ہیں ہم ان کو اپنی راہیں دکھا دیا کرتے ہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۸، ۴۱۹) مجھے یہ الہام با رہا ہو چکا ہے اُجِيْبُ كُلّ دُعَائِكَ۔دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ ہر ایک ایسی دُعا جو نفس الامر میں نافع اور مفید ہے قبول کی جائے گی۔میں جب اس خیال کو اپنے دل میں پاتا ہوں تو میری روح لذت اور سرور سے بھر جاتی ہے۔جب مجھے یہ اول ہی اول الہام ہوا قریباً پچیس یا تیس برس کا عرصہ ہوتا ہے تو مجھے بہت ہی خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ میری دُعائیں جو میرے یا میرے احباب کے متعلق ہوں گی ضرور قبول کرے گا۔پھر میں نے خیال کیا کہ اس معاملہ میں بخل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ ایک انعام الہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے متقین کی صفت میں فرمایا ہے وَمِنَا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ۔پس میں نے اپنے دوستوں کے لئے یہ اصول کر رکھا ہے کہ خواہ وہ یاد دلائیں یا نہ یاد دلائیں، کوئی امر خطیر پیش کریں یا نہ کریں اُن کی دینی اور د نیوی بھلائی کے لئے دُعا کی جاتی ہے۔متقی کا لفظ باب افتعال سے آتا ہے اور یہ باب تصنع کے لئے آتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ متقی کو بڑا مجاہدہ اور کوشش کرنی پڑتی ہے اور اس حالت میں وہ نفس تو امہ کے نیچے ہوتا ہے اور جب حیوانی زندگی بسر کرتا ہے اُس وقت اتارہ کے نیچے ہوتا ہے اور مجاہدہ کی حالت سے نکل کر جب غالب آ جاتا ہے تو مطمئنہ کی حالت رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۳۲)