تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 68

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۸ لے اور یہ حصہ لینا معرفت پر موقوف ہے اور معرفت فضل پر موقوف ۔ سورة البقرة لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۳، ۲۲۴) اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے۔ ہم بار بار اپنی جماعت کو اس پر قائم ہونے کے لئے کہتے ہیں کیونکہ جب تک دنیا کی طرف سے انقطاع اور اس کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے فطرتوں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ثبات میسر نہیں آ سکتا۔ بعض صوفیوں نے لکھا ہے کہ صحابہ جب نمازیں پڑھا کرتے تھے تو انہیں ایسی محویت ہوتی تھی جب فارغ ہوتے تو ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکتے تھے۔ جب انسان کسی اور جگہ سے آتا ہے تو شریعت نے حکم دیا ہے کہ وہ آ کر لام علیکم کہے۔ نماز سے فارغ ہوتے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے کہنے کی حقیقت یہی ہے کہ جب ایک شخص نے نماز کا عقد باندھا اور اللہ اکبر کہا تو وہ گویا اس عالم سے نکل گیا اور ایک نئے جہان میں جا داخل ہوا گویا السلام ایک مقام محویت میں جا پہنچا۔ پھر جب وہاں سے واپس آیا تو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ کر آن ملا۔ لیکن صرف ظاہری صورت کافی نہیں ہو سکتی جب تک دل میں اس کا اثر نہ ہو چھلکوں سے کیا ہاتھ آ سکتا ہے۔ محض صورت کا ہونا کافی نہیں ، حال ہونا چاہئے ۔ عِلتِ غائی حال ہی ہے مطلق قال اور صورت جس کے ساتھ حال نہیں ہوتا وہ تو الٹی ہلاکت کی راہیں ہیں۔ انسان جب حال پیدا کر لیتا ہے اور اپنے حقیقی خالق و مالک سے ایسی سچی محبت اور اخلاص پیدا کر لیتا ہے کہ یہ بے اختیار اس کی طرف پرواز کرنے لگتا ہے اور ایک حقیقی محویت کا عالم 6 بن جاتا ہے۔ اُس پر طاری ہو جاتا ہے تو اس وقت اس کیفیت سے انسان گویا سلطان بن جاتا ہے اور ذرہ ذرہ اس کا خادم البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۴ ء صفحه (۳) حقیقت میں جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے وہ ایمان کو چھوڑتا ہے اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آجاتا ہے۔ اس طرف سے فرق آیا تو معاً اس طرف سے بھی فرق آجاتا ہے۔ الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱) نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے، استغفار ہے اور درود شریف ۔ تمام وظائف اور اوراد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و ھہ دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اس لئے فرمایا ہے : اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد : ۲۹) اطمینان ، سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔ الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۹)