تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 68
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۸ لے اور یہ حصہ لینا معرفت پر موقوف ہے اور معرفت فضل پر موقوف۔سورة البقرة لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۴،۲۲۳) اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے۔ہم بار بارا اپنی جماعت کو اس پر قائم ہونے کے لئے کہتے ہیں کیونکہ جب تک دنیا کی طرف سے انقطاع اور اس کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے فطرتوں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ثبات میسر نہیں آسکتا۔بعض صوفیوں نے لکھا ہے کہ صحابہ جب نمازیں پڑھا کرتے تھے تو انہیں ایسی محویت ہوتی تھی جب فارغ ہوتے تو ایک دوسرے کو پہچان بھی نہ سکتے تھے۔جب انسان کسی اور جگہ سے آتا ہے تو شریعت نے حکم دیا ہے کہ وہ آکر السلام علیکم کہے۔نماز سے فارغ ہوتے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کے کہنے کی حقیقت یہی ہے کہ جب ایک شخص نے نماز کا عقد باندھا اور اللہ اکبر کہا تو وہ گویا اس عالم سے نکل گیا اور ایک نئے جہان میں جا داخل ہوا گویا ایک مقام محویت میں جا پہنچا۔پھر جب وہاں سے واپس آیا تو السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہہ کر آن ملا۔لیکن صرف ظاہری صورت کافی نہیں ہوسکتی جب تک دل میں اس کا اثر نہ ہو چھلکوں سے کیا ہاتھ آ سکتا ہے۔محض صورت کا ہونا کافی نہیں ، حال ہونا چاہئے۔علت غائی حال ہی ہے مطلق قال اور صورت جس کے ساتھ حال نہیں ہوتا وہ تو الٹی ہلاکت کی راہیں ہیں۔انسان جب حال پیدا کر لیتا ہے اور اپنے حقیقی خالق و مالک سے ایسی سچی محبت اور اخلاص پیدا کر لیتا ہے کہ یہ بے اختیار اس کی طرف پرواز کرنے لگتا ہے اور ایک حقیقی محویت کا عالم اُس پر طاری ہو جاتا ہے تو اس وقت اس کیفیت سے انسان کو یا سلطان بن جاتا ہے اور ذرہ ذرہ اس کا خادم بن جاتا ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۴ ء صفحه ۳) حقیقت میں جو شخص نماز کو چھوڑتا ہے وہ ایمان کو چھوڑتا ہے اس سے خدا کے ساتھ تعلقات میں فرق آجاتا ہے۔اس طرف سے فرق آیا تو معاً اس طرف سے بھی فرق آجاتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۵ مورخہ ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۱) نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے، استغفار ہے اور درود شریف۔تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم و ھم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل۔هم ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اس لئے فرمایا ہے : الا بذکر اللهِ تَطْمَئِنُ الْقُلُوبُ (الرعد: ۲۹) اطمینان ،سکیت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۹)